دہلی:۔مرکزی وزیرسیاحت جی کشن ریڈی نے پیرکوکہاہے کہ سال 2020 کے آغاز سے کووڈ-19 وبائی امراض کی تین لہروں کی وجہ سے سیاحت کی صنعت سے وابستہ 2.15 کروڑ لوگوں کو روزگار سے محروم ہونا پڑا ہے۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران ریڈی نے بتایا کہ کووڈ-19 کی وبا شروع ہونے کے بعد پہلی لہر میں ملک میں سیاحوں کی آمد میں 93 فیصد، دوسری لہر میں 79 فیصد اور تیسری لہرمیںسیاحوں کی آمد میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔وزیرسیاحت نے کہاہے کہ حکومت نے اس وبا کے سیاحت پر پڑنے والے اثرات پر ایک مطالعہ کیا ہے اور اس تحقیق کے مطابق پہلی لہر میں 1.45 کروڑ لوگوں کو روزگار سے محروم ہونا پڑا، دوسری لہر میں 52 لاکھ اور تیسری لہر میں 18 لاکھ لوگوں کو روزگار سے محروم ہونا پڑا۔ریڈی نے کہا کہ ملک میں وبائی مرض کے آنے سے پہلے 38 ملین لوگ سیاحت کی صنعت سے وابستہ تھے۔انہوں نے کہاہے کہ کورونا وبا کی تین لہروں کے دوران سیاحت پر مبنی معیشت میں نمایاں کمی آئی ہے جس سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا متاثر ہوئی ہے۔جی کشن ریڈی نے تاہم کہاہے کہ ملک میں ویکسین کی 180 کروڑ خوراکوں کے ساتھ حکومت کو توقع ہے کہ سیاحت کے شعبے میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی مدد کے لیے حکومت ٹریول اینڈ ٹورازم سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کو 10 لاکھ روپے اور ٹورازم گائیڈز کو 1 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ میں تمام ریاستی حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سیاحت کے شعبے کی ہر ممکن مددکریں۔وزیرنے کہاہے کہ مودی حکومت کے سیاحت دوست اقدامات کی وجہ سے دنیا کے سیاحتی مقامات کی درجہ بندی میں ہندوستان کی پوزیشن میں 20 مقامات کی بہتری آئی ہے اور یہ 2013 میں 52 ویں پوزیشن سے 2019 میں 32 ویں پوزیشن پر آ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سیاحوں کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے پہلے ہی پانچ لاکھ آمد پر ویزا فیس معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیرنے کہاہے کہ کورونا وبا پھیلنے کے بعد سے مارچ 2022 تک ہندوستان کی طرف سے 51,960 ریگولر ویزے اور 1.57 لاکھ ای ویزا دیے گئے ہیں۔
