نیویارک:۔عالمی مالیاتی ادارے آ ئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین کی جنگ دنیا کی معشیت اور سیاست کو ادھیڑ کر رکھ سکتی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو آئی ایم ایف کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ روس کے حملے کے اثرات دنیا کی معیشت پر ترقی کی رفتار میں کمی، مہنگائی میں اضافے کی شکل میں سامنے آنے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو لمبے عرصے کے لیے ایک نئے سانچے میں ڈھال سکتی ہے۔ آ ئی ایم ایف کی جانب سے ایک ویب سائٹ پر کی گئی پوسٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کی لہر اور دوسرے انسانی مسائل کے علاوہ اس جنگ سے افراط زر بڑھے گی، خوراک اور توانائی کی اشیا مہنگی جبکہ آمدنی کی قدر ہو گی۔صورت حال کے اثرات کاروبار میں خلل، سپلائی چینز کی بندش اور یوکرین کے ہمسایہ ممالک میں ترسیلات کی کمی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔بیان کے مطابق ’تجارت اور کاروبار بری طرح متاثر ہوں گے، سرمایہ کاروں میں غیریقینی بڑھے گی، جس سے اثاثوں کی قیمتیں گر جائیں گی۔ مالی حالات تنگی کی طرف جائیں گے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس سے سرمائے کا اخراج ہو سکتا ہے۔تصادم عالمی معیشت کے لیے ایک زوردار دھچکا ہے جس سے پیداواری شعبہ متاثر ہو گا اور نرخ بڑھیں گے۔آئی ایم ایف کے حکام پہلے ہی 2022 میں عالمی اقتصادی کے حوالے سے اس کی چار اعشاریہ چار فیصد کی پیشن گوئی میں کمی کا امکان ظاہر کر چکے ہیں۔منگل کو کی جانے والی پوسٹ میں علاقائی اقتصادی ترقی میں بھی کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
