شیموگہ:تیر تھ ہلی کے قریب شنگنابدرے ،تلالے، کگڑی، اور منڈگدے گائوں کے آس پاس والے باغات میں ہاتھیوں کی تباہی کی وجہ سے کسانوں کے اگائے ہوئے سپاری کے پودوں کو نقصان پہنچا ہے۔کھیتوں میں ہاتھوں کی اس تباہی کوروکنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت ریاستی وزیر داخلہ ارگاگیانیندر نے افسران کو دی ہے۔ انہوں نے آج ہاتھیوں کی وجہ سے نقصان پہنچانے والے کسانوں کے باغات کا محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے ساتھ دورہ کرتے ہوئے جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ہاتھوں کو جنگلات میں واپس چھوڑنے کیلئے محکمہ جنگلات کے افسران پچھلے 2 ہفتوں سے کارروائی کررہے ہیں۔ اس کارروائی کے شروع ہونے کے بعد بھی ہاتھوں کایہاں پایا جانا خطرناک ہے۔ اس علاقے میںزیادہ تر کسان چھوٹے اور بہت چھوٹے پیمانے والے کاشتکار ہیں اور یہ تکلیف دہ ہے کہ ایسے کسانوں کے باغات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کسانوں کی سپاری کی کاشت اور دوسرے پودے کی نشوونما کے پیچھے کی محنت سے واقف ہیں۔ لہٰذا متاثرہ کسانوں کو محکمہ جنگلات کی جانب سے راحتی فنڈ جاری کرنے اور دوبارہ ہاتھیوں کی آمد کوروکنے کیلئے یہاں مناسب اقدامات اٹھانے کیلئے 29 لاکھ روپئے کی امداد مختص کی گئی ہے۔ ٹینڈرکا عمل جاری ہے، جلدہی کام شروع ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہاتھیوں کی تباہی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔بھدراجنگلاتی علاقے سےتنگاندی کو عبور کرتے ہوئے یہ ہاتھی یہاں پہنچےہوںگے اسکا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سماجی اور جنگلی حیات شعبے کے جنگلاتی حکام کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس تقریب میں موجود وائلڈ لائف سب ڈویژن کے اسسٹنٹ فاریسٹ کنزرویٹر سریش نے کہا کہ پہلے سے شناخت شدہ ہاتھیوں کو 15 دنوں سے کام کر رہے ہیں اور انہیں بھگا دیا گیا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہاتھیوں نے ہوسنگر کے قریب تللے گاؤں کے آس پاس کےعلاقوں میںدوبارہ دکھائی دئے ہیں۔تقریباً 395 مربع کلومیٹر وسیع علاقوں میں پھیلے ہوئے اس علاقے کے 130 سے زیادہ دیہاتوں میںلوگ مقیم ہیں۔ بہت سے گاؤں جیسے شیٹی ہلی، ملےشنکراور منجری کوپہ جنگلاتی علاقوں میں ہی آباد ہیں۔ گرمیوں میں یہاں کے جنگلات میں خوراک کی کمی کو دور کرنےکیلئے ہاتھیوں کا گروہ نئی نئی جگہوں کو تلاش کرتا ہے اورایک علاقے سے دوسرے علاقے کا سفر کرنا ایک عام سی بات ہے۔ہاتھی کے حملے سے متاثرہ زمینوں کے 16 کسانوں نے محکمہ سے معاوضے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے سے آگاہ کر دیا جائیگااور جلد ہی معاوضہ تقسیم کر دیا جائے گا۔اس معاملے میں ڈی ایف اوشنکر، جنگلات کے تحفظاتی افسران میں ٹی وائی اکشتا،آدرش ،پرکاش اور دیگر قریبی گاؤں والے، بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندے اور کسان موجود تھے۔
