بنگلور : یوں تو مسلمانوں کو ایماندار قوم میں شمار کیا جاتاہے اورمسلمانوں کو لے کر تاریخ یہ کہتی ہے کہ مسلمانوں کی ایمانداری اور حق بیانی پر کوئی سوال نہیں اٹھاسکتاہے لیکن اس تحقیقی رپورٹ کے بعد آپ اندازہ لگاسکتے ہیںکہ کیا واقعی میں مسلمان ایماندار ہیں ؟۔ کیا وقف بورڈ ایماندار ہے ، کیا امام ایماندار ہیں ؟اور کیا مسلمانوں کے مسجدوں کی کمیٹیاں ایماندار ہیں ۔ کرناٹک حکومت کی جانب سے امسال مدرسوں کی ترقی کے نام پر لاکھوں روپئے کئی مدارس کے لئے جاری کئے گئے ہیں لیکن جن مسجدوں میں مکتب ہیں ان مکتبوں کے ذمہ داروں نے حکومت کے سامنے یہ حلف نامہ دیا ہے کہ انکے یہاں مدرسہ چلایا جارہاہے اور اسکی ترقی و ترویج کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہے ۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ جس مقام پر صبح شام یا عارضی طورپر قرآن و دین کی تعلیم دی جاتی ہے ، جہاں پر غیر رہائشی طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں ان مقام کو مدرسہ نہیں بلکہ مکتب کہا جاتاہے اور اسی مکاتب کو مدرسہ بتاکر کئی کمیٹیوں نے حکومت سے دس -دس لاکھ روپئے منظور کروائے ہیں ۔ اس دفعہ کرناٹک حکومت نے 2 کروڑ روپئے ایسے مکاتب کے لئے جاری کئے ہیں ۔ان دس لاکھ روپئوں میں سے مکتب( مدرسے ) میں بچوں کے لئے لائبریری ، کمپیوٹر کلاس کا انتظا م کرنا ہوتاہے اور باقی رقم انٹیریر، ڈیسک وغیرہ پر خر چ کرنا ہوگا ۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس مکتب میں صبح یا شام کا مدرسہ جس میں 5-12 سال کے بچے سلاَما ، رزاقا پڑھنے آتے ہیں انکے لئے کمپیوٹر کی تعلیم کے کیا معنی ہونگے ؟۔ کیا مکتب کو مدرسہ بتاکر جھوٹ ، فریب اور دھوکا نہیں دیاجارہاہے ؟۔ کیا اسلام میں اسکے لئے گنجائش ہے ؟۔ کیا یہ ایمانداری کی مثال کہی جاسکتی ہے ۔ مکتب کو مدرسہ بتاکر فنڈس لینے کی بات الگ ہے ، ریاست میں کچھ ایسی کمیٹیوں نے بھی مدرسہ فنڈ حاصل کیاہے جو قبرستانوں کی دیکھ بھالی کے لئے بنائی گئی ہے اس نے بھی دس لاکھ روپئے کا فنڈ مدرسہ ماڈرانائزیشن کے نام پر لیے ہیں ۔
کیا کمیٹیاں ایماندار ہیں ؟: مدرسہ فنڈ س کے علاوہ ریاست میں مسجدوں کے امام و موذنین کے لئے ماہانہ وظیفہ جسے عام طورپر تنخواہ کہا جاتاہے وہ بھی دئے جارہے ہیں ، ریاستی وقف بورڈ کے ماتحت آنے والے مسجدوں کے امام و موذنین کو ماہانہ حکومت کی طرف سے وظیفہ دینے کا فیصلہ سال 2014 میں لیاگیا تھا جس پر عمل 2015 سے ہوا تھا ، اس وقت یہ کہا گیاتھاکہ امام و موذنین کو جو مسجدوں سے دی جاتی ہے وہ ناکافی ہے اس لئے حکومت بھی اپنی طرف سے مالی امداد فراہم کریگی ۔ لیکن حکومت کا یہ تحفہ کئی مسجدوں کے ذمہ داروں کے لئے لوٹ کا راستہ بن گیا اور اماموں کا جو حق پہلے سے مارا جارہاتھا وہ اب بھی جاری رکھا جانے لگا۔ مثال کے طورپر اگر امام صاحب کو 12 ہزار روپئے تنخواہ مسجد سے دی جارہی تھی تو اسکے لئے 4000 ہزار روپئے حکومت کی جانب سے دیئے جانے تھے جس کے بعد جملہ رقم 16 ہزار روپئے بنتی ہے ۔لیکن بے ایمان کمیٹیوںکے ذ مہ داروں نے 12 ہزار میں سے چار ہزار روپئے کی کٹوتی مسجد سے کرتے ہوئے حکومت کے چار ہزار روپئے ملاکر 12 ہزار بناکر دینے لگے ، اسی طرح موذنین کی تنخواہ پر بھی چاقوچلایا جارہاہے ۔اگر اس طرح سے تنخواہ دے رہے ہیں تو غنیمت ہے بعض مسجدوں میں خود کمیٹی کے صدر یا سکریٹری یا کسی ممبر کو امام کے طورپر پیش کرتے ہوئے حکومت کے فنڈ کو اپنے ذاتی اکائونٹ میں ٹرانسفرکرنے کی بات سامنے آئی ہے ۔ سب سے بڑا گھوٹالہ خود وقف بورڈ کے افسران انجام دے رہےہیں جو کسی داڑھی والے کو مسجد کا امام یا موذن کے طورپر نامزد کرتے ہوئے حقداروں کا حق چھین رہے ہیں اور اس پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ مولانا تو آتے جاتے رہتے ہیں ، باربار کون دستاویزات تبدیل کرینگے اس لئے اس طرح کا قدم اٹھایا جارہاہے ۔
مسجد کمیٹیاں یوں ہی نہیں بنتی !!: اوقاف کے ماتحت آنے والی مساجد و مدارس کے لئے جو کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں ان کمیٹیوں کو یوں ہی منظوری نہیں دی جاتی اور نہ ہی ان کمیٹیوں کو یوں ہی کام کرنے دیا جاتاہے بلکہ کمیٹیوں کی تشکیل ، کمیٹوں کی منظوری اور جنر ل باڈی میٹنگ کروانے کی باضابطہ وصولی ہوتی ہے ، کمیٹی کو سرے سے تشکیل دینے کے لئے علیحدہ فیس ، کمیٹی کی جنرل باڈی میٹنگ کروانے کی الگ فیس اس طرح سے وقف بورڈ کے پیو ن سے لے کر افسر اور افسر سے لے کر چیرمین کی جیب گرم کرنے سے ہی کام ہوتاہے ، جن لوگوں کو وقف املاک کے تحفظ کی ذمہ داری دی گئی ہے وہی اوقافی اداروں کو کھوکھلا کررہے ہیں اور الزام یہ لگاتے ہیں کہ وقف بورڈ کو نقصان پہنچانے کے لئے سنگھ پریوار منظم سازش کررہاہے ،حقیقت یہ ہے کہ سنگھ پریوار سے بڑھ کر میم پریوار ہی اوقافی اداروں کا دشمن ہے ۔ان سب باتوں کو دیکھنے کے بعد سوال یہ ہے کہ آخر کون ایماندار ہے۔
