بنگلورو:۔اس سال کرناٹک میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس کے پیش نظر تمام جماعتوں نے اپنی اپنی حکمت عملی مرتب کرنا شروع کر دی ہے۔ جہاں حکمراں جماعت اپنے کئے گئے کاموں کی گنتی کرکے اپنے حق میں ماحول بنانے میں مصروف ہے وہیں اپوزیشن پارٹیاں پرکشش وعدے کرکے اور حکومت پر طرح طرح کے الزامات لگا کر ووٹروں کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں ۔ اسی سلسلے میں جمعہ کو کرناٹک کے چیف منسٹر بسواراج بومئی نے بی جے پی کے 2018 کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی رپورٹ پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا یہ تبصرہ قائد حزب اختلاف سدارامیا کے بار بار حملوں کے تناظر میں آیا ہے۔کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست کے آئندہ بجٹ اجلاس کے دوران 2018 کے اسمبلی انتخابات سے قبل حکمراں بی جے پی کی طرف سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ حکومت کی جانب سے منشور میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بومئی نے کہا کہ ہم بجٹ کے دوران رپورٹ دیں گے کہ ہم نے کیا کہا اور کیا کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ سی ایم بومائی 17 فروری کو اپنی حکومت کا آخری بجٹ پیش کریں گے۔دراصل چیف منسٹر بومئی کا یہ تبصرہ کانگریس، خاص طور پر اپوزیشن لیڈر سدارامیا کے مسلسل حملوں کے تناظر میں آیا ہے۔ انہوں نے بار بار بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں 600 وعدے کیے تھے، لیکن ان میں سے بمشکل 10 فیصد پورے ہوئے ہیں۔ سدارامیا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے 2013 میں 165 وعدے کیے تھے اور ان میں سے 158 اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں پورے کیے گئے۔کرناٹک اسمبلی انتخابات کے پیش نظر جے ڈی (ایس) نے پہلے ہی 93 امیدواروں کی اپنی پہلی فہرست کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری طرف کانگریس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے اپنی پہلی فہرست تقریباً تیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں چیف منسٹربومئی نے بی جے پی امیدواروں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہماری انتخابی حکمت عملی مختلف ہے، ہمیں وہ نہیں کرنا چاہیے جو وہ کرتے ہیں، ہم اپنی حکمت عملی پر کام کریں گے’۔ ہمارے پاس ایک مختلف حکمت عملی ہے۔اس دوران انہوں نے کانگریس کو بھی نشانہ بنایا۔ بومئی نے کہا کہ کانگریس لیڈر خود کہہ رہے ہیں کہ وہ سیاست چھوڑ دینگے۔ ہم نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔ اس کا یہ کہنا اس کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔دراصل کانگریس لیڈر سدارامیا اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر کرناٹک میں مئی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کو ووٹ دیا جاتا ہے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے، اگر وہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔
