کرناٹکا راجیہ اردو ٹیچرس اسوسیشن تعلقہ شاخ شیموگہ کا اردو بیداری اجلاس اورڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی کتابوں کی تقسیم

شیموگہ:۔کرناٹکا راجیہ اردو ٹیچرس اسوسیشن تعلقہ شاخ شیموگہ نے قدوائی اسکول آر،ایم،ایل نگر شیموگہ میں قومی ساہتیہ انعام یافتہ شاعر و ادیب ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی معیت میں اردو بیداری اجلاس کا انعقاد کیا۔اس موقع سے ڈی ڈی پی ای کے حکم کے مطابق ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی کتابوں کا سیٹ ضلعی سطح پر اسکولوں کے اساتذہ میں تقسیم کی گئی۔اس جلسے کی صدارت کے فرائض سیدپرویز صدر شیموگہ تعلق راجیہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن نے ادا کیے۔ جبکہ استقبالیہ سی،آر، پی منصوراحمد،آرگنائزنگ سکریٹری جبکہ نظامت عمران خان سکریٹری راجیہ اردو ٹیچراسوسی ایشن نے پیش کیا۔انہوں نے اپنے استقبالیہ تقریر میں تمام اساتذہ کا فرداً فرداً استقبال کیا۔ اور حاضرین اور مہمانان گرامی کا بھی پرتپاک انداز میں استقبال کیا۔ اور باالخصوص ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا نہایت شاندار انداز میں استقبال کیا۔ اور کہا کہ یہ جلسہ جہاں اردو بیداری مہم کی تجدید کے لیے منعقد کیا گیا ہے، وہیں ڈی، ڈی، پی، آئی کے سرکاری حکم نامے کے تحت ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی گراں قدر تصنیفات کو اساتذہ میں تقسیم کرنے کی غرض سے بھی منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ فخر اور مسرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی بہ نفس نفیس یہاں موجود ہیں۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی قومی ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ایسے شاعر اور ادیب ہیں جن کی خدمات سے پوری اردو دنیا واقف ہے۔ انہوں نے اپنی محنت، لگن اور خلوص سے بچوں کے مشکل ترین ادب کو آسان بنادیا ہے۔ انہوں نے نثر بھی لکھی ہے اور نظمیں بھی لکھی ہیں۔ رباعی راجا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جب کہ سیرت نگاری، سوانح نگاری، غزل گوئی، حب الوطنی کے نغمہ نگار، اور لوری نگار کے علاوہ حمد و نعت اور مثنوی نگاری کے باب میں بھی ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی نے یقینا ہم سب کی عزت و توقیر بڑھائی ہے۔ اور اس جلسے کو یادگار بنادیاہے۔اس خصوصی اجلاس کے موقع سے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے راجیہ اردو ٹیچرایسوسی ایشن کے سبھی ممبروں کو اپنے ہاتھوں سے سند تقسیم کی۔ اور اپنے اپنے کاموں اور کارناموں سے ناموری حاصل کرنے والے اساتذہ کا اعزاز کیا۔بعدازاں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ؛ میں آپ اساتذہ کی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں، میں آپ ہی کی صف سے نکل کریہاں تک پہونچا ہوں۔ اس لیے آپ کے درمیان بہت اپنائیت محسوس کرتا ہوں۔ کیوں کہ میں آپ ہی کے کنبے کا فرد ہوں۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنی کتاب ہاتھ میں لے کر حاضرین کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ادب لکھنا، یا شاعری کرنا بہت مشکل نہیں ہے، انہوں نے بہت سارے افاعیل کا ذکر کیا۔ اور ان افاعیل کے مطابق مصرعے اور اشعار موزوں کرکے بتائے۔ اور اشعار کی تقطیع کرکے بھی لطف لے لے کر بتایا۔انہوں نے کہا کہ؛ اردو کے سبھی اساتذہ کو پابندی سے اردو اخبارات و رسائل کا مطالعہ جاری رکھنا چاہیے۔ اور مضامین بھی لکھتے رہنا چاہیے۔ بچوں کو بھی اردو زبان کے شعراء و ادبا سے واقف کراتے رہنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ اسکولوں میں اردو شعرا و ادبا اور دانشوروں کی تصاویر آویزاں کرنی چاہیے۔ ان کے کاموں اور کارناموں سے واقف کراتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور ڈال کر کہا کہ؛ پہلے اساتذہ کی تنخواہیں کم تھیں، اب اللہ کے فضل سے اچھی تنخواہیں ہیں۔ اس لیے اساتذہ کو اپنی تنخواہ کا ایک حصّہ اردو زبان و ادب کی ترقی پر ضرور خرچ کرنا چاہیے۔ طلباء کی تالیف قلب کے بھی مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔ حافظؔ کرناٹکی نے کہاکہ؛ اس کے بعد کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی کے تحت ایک میٹنگ ہوگی جس میں ہم سب مل کر طے کریں گے کہ بچوں کی ادبی تربیت کے لیے بیت بازی، رباعیات بازی، مناقشہ، اور حمد و نعت خوانی کے پروگرام کب کیے جائیں گے، اور انہیں انعامات سے کس طرح نوازا جائیگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اردو ایک عالمی اور زندہ جاوید زبان ہے۔ جو کبھی نہیں مٹے گی۔ بس ہمیں اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرنا ہے۔ دادا پیرایم، ڈی، ایم ڈائریکٹر نے کہا کہ؛ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی شروع سے ہمارے رہبر ہیں۔ ہم ان کی رہنمائی میں مل جل کر اردو زبان کی ترقی اور فروغ کے لیے کام کریں گے۔ جو ہمارے لیے فخر کا باعث ہوگا۔ذاکر حسین ای،سی، او ساگر نے کہا کہ؛ ہم پہلے بھی وقفے وقفے سے بچوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے بیت بازی، اور تقریری مقابلے کا انعقاد کیا کرتے تھے۔ اب ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی رہنمائی میں اسے مزید وسعت دینگے اور جم کر کام کریں گے۔برہن ہڈی چوبدار سی، آر، سی، کو آرڈینیٹر شیموگہ نے کہا کہ؛ ہم سبھی انشاء اللہ مل جل کر اردو کی ترقی کے لیے کام کریں گے اور ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی کتابوں کو سارے اساتذہ اور تمام اسکولوں تک پہنچا کر ایک خوب صورت ادبی ماحول بنائیں گے۔یہاں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اس اجلاس میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی ساری مطبوعہ کتابوں کی تقسیم کا اہتمام کیا گیاتھا۔ یہ کتابیں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے سبھی اسکولوں کی لائبریریوںکو تحفتاً پیش کیں اور کہا کہ آئندہ جو بھی کتابیں شائع ہونگی وہ بھی لائبریریوں کو تحفتاً پیش کروں گا۔سیدپرویز صدر اجلاس نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ؛ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا اردو اساتذہ کی برادری سے بہت گہرا اور مضبوط رشتہ ہے۔ کیوں کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی خود بھی ایک استاد تھے۔ ان کی معیت میں جن لوگوں نے بھی کام کیا ان سے خوب فائدہ اٹھایا اور علم و ادب کی روشنی حاصل کی۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ آج بھی ہمیں ان کی قربت اور محبت حاصل ہے۔ ہم ان کی رہنمائی میں فروغ اردو کے لیے ہر وہ کام کریں گے جو ممکن ہوگا۔ای سی او سید مستفیض الحسن نے سی آرپی کے طو رپر خدمات انجام دینے والے تعلقہ کے چاروں سی آرپیز کو تہنیت میں اہم کرداراداکیا۔عمران خان نے اخیر میں سبھی مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اور یہ اجلاس اختتام کو پہونچا۔
