دہلی : سوشل میڈیا پر لگاتار یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملیشیا سے ہندوستان کے حوالے کیا جائے گا ۔ سوشل میڈیا پر اس دعوے کو اے بی پی نیوز کے ایک فوٹیج کے ساتھ شیئر کیا جارہا ہے۔ ساتھ میں مرکز کی مودی سرکار کی بھی اس معاملہ میں واہ واہی کی جارہی ہے ۔ حالانکہ انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ میں فیکٹ چیک میں پایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل یہ کلپ 2018 کی ہے اور ذاکر نائیک کو ملیشیا سے ہندوستان کے حوالے کئے جانے کے دعوی میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔دراصل ہندوستان میں ذاکر نائیک کی تلاش ہیٹ اسپیچ ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں سے وابستہ معاملات میں ہے ۔ سوشل میڈیا پر اے بی پی نیوز کی جو کلپ وائرل ہورہی ہے ، وہ چار جولائی 2018 کی ہے اور اس کو اے بی پی نیوز کے فیس بک پیج پر بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح فیکٹ چیک ادارہ آلٹ نیوز نے بھی 2021 مں اسی طرح کے ایک دعوی کا پردہ فاش کیا ہے ، جس میں ذاکر نائیک کو ملیشیا سے ہندوستان کے سپرد کئے جانے کا دعوی کیا گیا تھا ۔فیکٹ چیک میں جب اس خبر کو تلاش کیا گیا تو آلٹ نیوز نے بھی چار جولائی 2018 کی خبر کو چیک کیا تھا ۔ اس خبر میں فیس بک پیج کا لوگو اور خبر میں لگا ویڈیو ایک تھا ، حالانکہ جس پیج سے اس ویڈیو کو شیئر کیا گیا تھا، اس کا نام پھر ایک بار مودی سرکار تھا ۔ اس طرح ثابت ہوگیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو صحیح نہیں ہے اور یہ پرانا ویڈیو ہے ۔اسی طرح ملیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کے بیانات سے وابستہ خبریں بھی مل رہی ہیں ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک ذاکر نائیک ملیشیا میں پریشانی کھڑی نہیں کرتے ہیں ، وہ ان کو ہندوستان کے حوالے نہیں کریں گے ، کیونکہ ذاکر نائیک کو مقامی شہریت دی گئی ہے ۔
