حیدرآباد:سکندرآباد کے بھوئی گوڈا علاقہ میں 23 مارچ کی صبح ایک سکریپ گودام میں آگ لگنے سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے۔ گودام سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والے مزدوروں میں سے ایک کو اسپتال پہنچا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق شادوان ٹریڈرس کے اسکریپ کلیکشن سینٹر کی پہلی منزل پر 12 مزدور سو رہے تھے، اسی دوران گراؤنڈ فلور پر آگ بھڑک اٹھی۔سینٹرل زون کے ڈی سی پی ایم راجیش چندرا نے کہا کہ مزدوروں کے لیے باہر نکلنے کا واحد راستہ گراؤنڈ فلور میں اسکریپ کی دکان سے تھا جس کا شٹر بند تھا۔ صبح 8 بجے تک 11 لاشیں نکال لی گئیں جبکہ ایک کارکن جو کہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھاجسے اسپتال میں داخل کرواتے ہوئے علاج کیاجارہاہے۔ فائر کنٹرول روم کو صبح 3 بجے کے قریب الرٹ موصول ہوا اور 9 فائر ٹینڈرز نے آگ پر قابو پانے کے لیے تین گھنٹے سے زیادہ کام کیا۔حیدرآباد کے سی پی سی وی آنند نے کہا کہ گودام میں موجود فائبر کیبلز موجودتھے جس تھے جس کی وجہ آگ کی شدت کو طول دے دیا۔پولیس نے بتایا کہ متاثرین میں سے زیادہ تر تارکین وطن مزدور تھے۔ مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئیں۔اس واقعہ پرتلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی راؤ نے سکندرآباد کے بھوئی گوڈا ٹمبر ڈپو میں آتشزدگی میں بہار کے کارکنوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے فی کس 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا کا اعلان کیا اور چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ واقعے میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی لاشوں کی وطن واپسی کے لیے انتظامات کریں،وہیں وزیر اعظم نریندرمودی نے اس خوفناک واقعہ پرمہاجر مزدوروں کی موت پر سوگ کا اظہار کیا اور وزیر اعظم نیشنل ریلیف فنڈسے ان کے اہل خانہ کو 2 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا رقم کا اعلان کیا۔اطلاعات کے مطابق ایک آفیسرنے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ شاک سرکٹ ہو سکتی ہے، ہم معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
