کرناٹک حکومت کی جانب سے کامن سیول کوڈ پررائے طلب کرنے کیلئے جاری کئے احکامات

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔مرکزی حکومت کی جانب سے یکساں سیول کوڈ یعنی کامن سیول کوڈ کو جاری کرنے کے تعلق سے پیش رفت کی گئی ہے،اسی کے چلتے کرناٹک میں کانگریس حکومت نے اب مختلف محکموں سے تجاویزات ،مشورے اور نوٹس حاصل کرنے کیلئے احکامات جاری کئے ہیں۔کامن سیول کوڈکولیکر ریاست کے وزیر اعلیٰ سدرامیانے پہلے ہی مخالفت کی تھی ، لیکن اب مشورے ، تجاویزات اورنوٹس حاصل کرنے کیلئے جو پیش رفت کی گئی ہے اس سے بحث شروع ہوچکی ہے ۔ تجاویز،مشورے اورنوٹس کوجمع کرنے کیلئے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے افسروں کو ہدایت دی گئی ہے،اس سلسلے میں18 اکتوبر 2023 کو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے افسر نندا کماربی نے سرکیولرجاری کیاہے،جس کی تصدیق دی فائل نامی ویب سائٹ نے کی ہے۔سرکیولرمیں کہاگیاہے کہ کامن سیول کوڈ کے تعلق سے بھارت سرکارکے لیگل کمیشن نے تمام ریاستوں سے مشورے،تجاویز دینے کیلئے گذارش کی ہے،کامن سیول کوڈکو نافذ کرنے کےدوران شادی بیاہ،طلاق ،خلع ،جائیداد کی تقسیم وغیرہ کے تعلق سےلاء کمیشن کی22ویں نشست میں ان تفصیلات کا جائزہ لیاجائیگا،جس کیلئے کرناٹک حکومت کو بھی مشورے حاصل کرنےکی بات کہی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پہلے ہی کامن سیول کوڈکی مخالفت کی تھی،مرکزی حکومت نے آئی پی سی سیکشن کے نام تبدیل کئے ہیں،1861 میں جاری ہونےوالے قوانین کو تبدیل کرنے کی پیش رفت کی تھی ۔اس سلسلے میں 26 جولائی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ سدرامیا سے کامن سیول کوڈسے ہونے والے نقصانات کے تعلق سے بآوربھی کیاتھا،اُس وقت بھی وزیر اعلیٰ نےاس کی مخالفت کی تھی۔لیکن اب سرکیولر جاری کرنے کے بعد ریاستی حکومت کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔