کس سمت میں جارہی ہیں ہماری نسلیں; کون ہیں ان کے رہبر؟،کون ہیں ان کے رہزن،مستقبل کیا ہوگا؟

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔حجاب کا معاملہ جب سے آیاہے اس کے بعد سے مسلم طالبات کا مستقبل دائو پر لگاہواہے۔اس معاملے کو چار دیواری یاچار لوگوں کے درمیان یاپھرمحدود افراد کی رہبری میں حل کیا جاسکتا تھا وہ معاملہ اب ریاست ہی نہیں بلکہ قومی مسئلہ بن گیاہے اور کوئی نہیں جانتاکہ سپریم کورٹ میں پہنچا ہوا یہ معاملہ کس طرح رخ اپنائیگا اور سپریم کورٹ اس تعلق سے کیا فیصلہ لے گا۔سوالات کئی ہیں لیکن جواب کسی کے پا س نہیں ہے۔جس طرح سے کرناٹکا ہائی کورٹ نے اس معاملے کے تعلق سے فیصلہ سُنایاہے اگر اسی طرح کا فیصلہ سپریم کورٹ میں سنایاجائیگا تو اس کاکیااثر طلباء پر ہوگا،اس کیلئے کس نے کیا تیاری کی ہے یہ بھی کوئی نہیں جانتا ۔ ملک میں اس وقت جوحالات رونما ہوئے ہیں اور جس طرح کے ناخوشگوار معاملات روزبروز ظاہرہورہے ہیں اُس سے یہ بات تو ظاہرہورہی ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔پچھلے 30-25 سالوں میں مسلمانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا جو رواج زور پکڑرہاہے اُس رواج پر اچانک حجاب جیسے مدعےنے مختلف طرح سے روکاٹیں پیدا کی ہیں، حجاب کا معاملہ نہ طالبات کاتھا نہ ہی کالجوں کا،بلکہ اس معاملے کو  سیاست ،تنظیمیں اور انانیت نے اثر پیداکیا ہے ۔ طلباء ،تنظیمیں، سیاست، عدالت،حکومت نے اپنی اپنی انانیت اور زور کو دکھانے کی خاطرطلباء کے مستقبل پر گرہن لگادیاہے۔ایک طرف مسلم علماء اس مسئلے کوحل شرعی طو رپر نکالنے سے قاصرہیں تو دوسری طرف مسلم سیاستدان اس مدعے کو سیاسی طور پر استعمال کررہے ہیں تو بعض تنظیمیں اور جماعتیں حجاب کے مدعے کو اپنے وجود کا مظاہرہ کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں ۔ جس قوم میں شریعت پر تفصیل،تفسیر اور فقہء کے ذریعے مسائل کا حل نکالاجاسکتاہے،اُسی مذہب کے مذہبی رہنمائوں نے خاموشی تان رکھی ہے ۔ عدالتوں کے فیصلے کیا کچھ ہوسکتے ہیں یہ بھی ہر کوئی اچھی طرح جانتاہے،باوجود اس کے مستقبل کیلئے کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا جارہا ہے۔جن طلباء وطالبات میں مسلمان روشن مستقبل دیکھ رہےتھے وہی طلباء آج مسائل کو سمجھنے میں اور تعلیم کے میدان میں رہ کر حالات کا مظاہرہ کرنے کے بجائےکچھ لوگوں کی رہبری پر اعتماد کرتے ہوئے اپنےمستقبل کو تباہ کررہے ہیں۔اگر کوئی کہے کہ وقت کے مطابق شریعت میں رعایت ہے تو اُس کہنے والے کو مسلمان ماننے سے انکارکیا جارہا ہے اور اگر کوئی کہے کہ حجاب کو بنیاد بنا کر تعلیم سے دو ر نہ ہوں تو اُس پر بھی لعن طعن کسا جارہاہے،اس وقت ہر کوئی اپنی اپنی اناکے تحت زندگی گذارنا چاہ رہا ہے۔اسلام نے کئی موقعوں پر کئی طرح کی رعایتیں دی ہیں اور ان رعایتوں پر عمل کرنے یانہ کرنےسے بڑا نقصان تونہیں ہے اور نہ ہی بہت بڑا فائدہ بھی ہے ۔ عدالتیں اپنے فیصلے سناتی ہیں اور چاردن فیصلوں کو لیکر ہنگامہ آرائی ہوتی ہیں،تنظیمیں چاردن قیادت و نیابت کا حوالہ دیتی ہیں پھر وہ نئےمدعوں کو لیکر مصروف ہوجاتی ہیں۔ہمارے سامنےکئی مثالیں موجودہیں ، طلاق ثلاثہ کا معاملہ دیکھا،بابری مسجدکا مسئلہ دیکھا، گائوکشی کا مسئلہ دیکھا،لوجہا د کا معاملہ دیکھا،ان سب پر مسلمانوں نے کائونٹر پر کائونٹرکیا،لیکن حاصل کچھ نہیں  ہوا تو خاموشی اختیار کر لی ۔ ہر دورمیں مسلمانوں کے الگ الگ طبقے کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے،لیکن حل شائدہی کسی کو ملا ہو ، ایسے میں مسلم طلباء کو ہوش میں آکر اپنی زندگی کے اہم فیصلوں کولینے کیلئے تیارہونے کی ضرورت ہے۔