دہلی:۔دہلی فسادات کے معاملے میں دہلی پولیس، وزارت داخلہ، حکومت، نفرت پھیلانے والے میڈیا کے ایک حصے پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سٹی زن کمیٹی نے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق تمام حقائق کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ فسادات پھوٹنے سے پہلے نفرت کا ماحول کیسے پیدا کیا گیا، اس کیلئے میڈیا کو کس طرح استعمال کیا گیا اور فسادات کے بعد کس طرح صحیح تحقیقات نہیں ہوئیں اور کچھ لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کیلئے کس طرح غلط سیکشن کا استعمال کیا گیا۔ستیہ ڈاٹ کام میں شائع خبر کے مطابق جس کمیٹی نے یہ رپورٹ دی ہے اس کے سربراہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر ہیں۔ اس کمیٹی میں جسٹس اے پی شاہ، مدراس اور دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس آر ایس سوڈھی، دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج، پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش اور حکومت ہند کے سابق ہوم سکریٹری جی کے پلئی شامل ہیں۔کمیٹی نے رپورٹ میں پایا کہ تنازعہ پیدا کرنے کی نیت سے نفرت پھیلائی گئی۔ 2020 میں 23 فروری سے 26 فروری تک شمال مشرقی دہلی فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جل رہی تھی۔ لیکن اس کیلئے کافی عرصہ پہلے سے نفرت کا ماحول بنایا جا رہا تھا۔ شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کی 2019 سے مخالفت کی جا رہی تھی۔ اس کے خلاف مسلمان اپنی شہریت کھو دینے کے خوف سے احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران اسمبلی انتخابات نے زور پکڑ لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران نفرت انگیز بیانات دیے گئے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ اسی وقت انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا جیسے لیڈروں نے عوامی فورمز سے احتجاج کرنے والوں کو غدار کہنا شروع کردیا۔ اس وقت گولی مارو کا نعرہ بھی لگایا گیا تھا۔کمیٹی نے مزید کہا ہے کہ کئی ٹیلی ویژن چینلز بھی اس نفرت کو پھیلانے اور بڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔ کمیٹی نے خصوصی طور پر 22 /اور 23 فروری کی پیش رفت کا حوالہ دیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کس طرح کپل مشرا نے 23 فروری کو جعفرآباد اور چاند باغ کی سڑکیں صاف کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔کمیٹی نے کہا کہ جان بوجھ کر مسلم مخالف تقریر کی وجہ سے ہونے والاتشدد اس بات کا اشارہ ہے کہ عوامی گفتگو میں نفرت انگیز بیانات کے ساتھ حقیقی تشدد کس طرح پروان چڑھ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی کرنے کی ادارہ جاتی خواہش پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔میڈیا کا ایک حصہ ان نفرت انگیز بیانات کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ان چینلز کو دی جانے والی رسائی اور چھوٹ نشریاتی معیارات کی نگرانی کرنے والے موجودہ اداروں کی کوتاہی سے کہیں زیادہ ہے۔ سوشیل میڈیا تقریر اور اظہار کیلئے ایک غیر مانیٹرنگ پلیٹ فارم کے طور پر اپنے فوائد رکھتا ہے، لیکن یہ جنونی، نفرت انگیز تقریر اور پرتشدد مواد کے کیریئر کے طور پر بھی سنگین خطرات لاحق ہے۔اس نے کہا ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں سی اے اے مخالف دھرنوں کو نشانہ بنا کر ہٹانے کو ایک واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔کمیٹی نے اپنے مطالعہ میں پایا کہ اس معاملے میں یو اے پی اے کا غلط استعمال کیا گیا۔یو اے پی اے کے استعمال کو بھی غیر نقصان دہ کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس نے کہاکہ یہ نہ صرف قانون کا سراسر غلط استعمال ہے بلکہ یہ قانون کی آڑ میں اختلاف اور مخالفت کو دبانے کے مسلسل رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ مظاہرین کو خاموش کرنے کیلئے تشدد کے استعمال اور تحقیقات میں UAPA کے استعمال نے احتجاجی تحریک پر ہی سایہ ڈالا ہے۔ ایسی حرکتیں ہماری جمہوریت کی صحت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ اپنے اختتام میں، اس نے کہاکہ اس کمیٹی کی رائے ہے کہ اس فرقہ وارانہ واقعے نے اندرونی عمل کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے جس کے ذریعے ایک کثیر الثقافتی معاشرہ اپنی تکثیریت کو مضبوط بناتے ہوئے امن، ہم آہنگی اور نظم و ضبط کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کی بجائے نفرت کی فضا مزید مضبوط ہوئی ہے اور تشدد کے راستے کھل گئے ہیں۔ کمیونٹیز کی اپنے زخموں پر مرہم رکھنے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی طاقت کم ہو گئی ہے۔
