شادی ظلم کا لائسنس نہیں ، شوہر کا بیوی کے ساتھ زبردستی جسمانی تعلقات قائم کرنا بھی ریپ میں شامل : کرناٹک ہائی کورٹ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ازدواجی عصمت ریزی کو لے کر ملک میں جاری بحث کے درمیان کرناٹک ہائی کورٹ  کا ایک انتہائی اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں  ہائی کورٹ نے بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف ریپ کے الزام میں چلائے جا رہے کیس کو رد کرنے سے  انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کسی عورت کی مرضی کے خلاف کیا گیا ظلم یا عصمت دری ریپ کے مترادف ہوگا۔ چاہے وہ اس آدمی کے ذریعے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو جو اس عورت کا شوہر ہو۔ اس حوالے سے قانون میں دی گئی چھوٹ مکمل نہیں ہے۔ یہ چھوٹ حقائق اور حالات کے پیش نظر ہی دی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو لوگوں کو جرائم کرنے کا ایک طرح کا لائسنس مل جائیگا۔ ہمارے خیال میں شادی کسی شخص کو ظالم جانور جیسا سلوک کرنے کا لائسنس نہیں دیتی۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق شوہر کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا۔ بیوی نے 21 مارچ 2017 کو اس کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ تفتیش کے بعد پولیس نے چارج شیٹ پیش کی۔ اسے بنیاد کے طور پر لیتے ہوئے خصوصی عدالت نے شوہر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 376 498 اے اور 506 کے تحت الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔پوکسو ایکٹ کی کچھ دفعات بھی لگائی گئیں۔ شوہر نے اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس کی طرف سے دلیل دی گئی کہ بیوی کی شکایت پر شوہر کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ اسے میریٹل ریپ مانا جائے گا، جسے آئی پی سی کی دفعہ 375 کے استثناء-2 کے تحت چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ قانون میں دی گئی یہ چھوٹ مکمل نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بیوی کی مرضی کے بغیر جنسی حملہ کا وحشیانہ عمل چاہے اس کے شوہر کی جانب سے ہی کیوں نہ ہو اسے عصمت ریزی قرار دیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب شوہر اپنی بیوی سے اس کی مرضی کے بغیر رشتہ قائم کرتا ہے تو اس کا عورت کے ذہن اور جسم پر برا اثر پڑتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات خواتین میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ ان میں جس قسم کا خوف  پیدا ہوگا وہ ان کے دماغ اور جسم دونوں پر اثر انداز ہوگا۔لہذا قانون سازوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ’خاموشی کی آواز سنیں‘۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ”اس از کار رفتہ خیال اور روایت کو مٹانا ہوگا کہ شوہر اپنی بیوی‘ اس کے جسم‘ اور اس کے  ذہن اور روح کے مالک ہوتے ہیں۔یہ ایک از کار رفتہ‘ رجعت پسندانہ اور پہلے سے طے شدہ تصور ہے (جس کی وجہ سے)ملک میں ایسے کیسس بڑھتے جارہے ہیں“۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایم ناگا پراسنا نے فیصلے میں کہا کہ ہمارا آئین سب کو برابری کا حق دیتا ہے۔ لیکن قانون میں شوہر کو دی گئی یہ چھوٹ امتیازی ہے۔ قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کے خلاف جرم کریگا تو اسے سزا دی جائیگی۔ لیکن اگر وہ مرد اس عورت کا شوہر ہے تو اسے سزا نہیں دی جائیگی۔ میری نظر میں یہ ایک قدیم سوچ ہے، جہاں عورت کو مرد سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ یہ برابری کے حق کے خلاف ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ استثنیٰ 1837 میں نافذ قوانین سے آیا ہے۔ اس زمانے میں شادی کو ایک معاہدہ کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور مرد عورتوں کو اپنی بپوتی سمجھتے تھے۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ آزادی کے بعد ہمارے آئین میں خواتین اور مردوں کو مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔قانون کی جانکاری دینے والا ویب سائٹ لائیو قانون کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شوہر کی طرف سے بیوی کی مرضی کے خلاف زبردستی جنسی تعلقات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف عورت کو جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی روح پر ہمیشہ کیلئے زخم بن جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جو بھی مرد اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اسے دفعہ 376 کے تحت سزا ملنی چاہیے۔ جرم جرم ہی رہے گا، ریپ ریپ ہی رہے گا، خواہ اس کا ارتکاب شوہر نے کیا ہو یا کوئی اور مرد کرے۔