آل انڈیا کانگریس صدرکیلئے ملیکارجن کھرگے کا انتخاب خوش آئند : کے عبدالجبار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
داونگیرے:۔آل انڈیا کانگریس صدر کے طور پر ریاست کے تجربہ کار سینئرکانگریس لیڈر ملیکارجن کھرگے کا انتخاب خوش آئند انتخاب ہے،ملیکارجن کھرگے کے انتخاب سے پارٹی میں ایک نئی جان پیدا ہوگئی ہے۔اس بات کااظہاررکن قانون ساز کونسل وکے پی سی سی اقلیتی شعبہ کے چیرمین کے عبدالجبارنے کیا ہے۔انہوں نے اس تعلق سے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ کے پی سی سی صدر سے لے کراسمبلی اور پارلیمان میں کام کرچکے ملیکارجن کھرگے اپنی سیاسی زندگی کےپچاس سالہ تجربات کی روشنی میں یقیناًپارٹی کو آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،کانگریس پارٹی ملک میں جمہوری طرز کی اپنی مثال کھرگے کے انتخاب سے ملک کی عوام کے سامنے پیش کرچکی ہے جبکہ مدمقابل بھاچپا میں جمہوری طرز کی ایسی مثال موجود نہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس وقت سابق اے آئی سی سی کے سابق صدر راہل گاندگی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاتر ا اور ملیکارجن کھرگےکے ” اے آئی سی سی ” صدر بننے سے ملک کے  لوگوں میں ایک نئی سوچ جنم  لینے لگی ہے ، لوگ اب محسوس کررہے ہیں کہ کس طرح بھاچپا نے جھوٹ کا سہارہ لے کر ملک کی عوام کو  پریشانیوں میں مبتلا کیا، ہر شخص سوچنے لگا ہے،ملک میں سالانہ دوکروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے اور ملک کے ہر شہر ی کے اکاؤنٹ  میں پندرہ لاکھ روپیئے پہنچانے کے سارے کے سارے وعدے جھوٹ ثابت ہوچکے ہیں،مرکز میں بھاچپا کے اقتدار میں  رہتے ملک کی معیشت دم توڑ چکی ،جی سی ٹی کی وجہ ملک میں بہت سارے روزاگار کے مواقع معدوم ہوچکے ہیں ،چند ہی کارپوریٹ افراد کو جو ملک میں بینکوں سے قرض لے کر ملک سے فرار ہوئے اُن کے قرضوں کو حکومت نے معاف کردیا مگر کسانوں کو کسی قسم کی سہولت حکومت فراہم نا کرسکی،کسانوں کے لئے دوا بیج اور کھاد ہر چیز کی قیمت تو دوگنی سے زائد تو ہوچکی مگر فصلوں کی قیمت  کسانوں کی زندگیاں بچانے میں ناکام رہی، ریاست میں موجودہ حکومت کی بدعنوانی کسی سے پوشیدہ نہیں  رہ گئی،ملک کے اعلیٰ عہدے پر برسرِاقتدار وزیر اعظم کے ذریعہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے روزگار سے متعلق بات کرتے ہوئے پکوڑے بناکر بیچنے کو ایک  بہتریں روزگار ثابت کرنے کی جو کوشش ہوئی، کئے گئے وعدوں  پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے لوگوں کے دلوں میں مذہب کے نام پر نفرت کا بیج بونا  آج ہر کوئی سمجھنے لگا ہے،راہل گاندھی کی  بھارت جوڑو یاتر ا میں روز بہ روز سے ملک کی عوام  میں بیداری پیدا ہورہی ہے، اس طرح پہلے کسی سیاسی لیڈر  نے لوگوں کے مفادات کے تحفظ کی خاطر  اس قدر قربانی کے تین ہزار پانچ سو کلو میٹر سے زائد کا فاصلہ پیدل چلتے ہوئے راہل گاندھی جو کررہے ہیں اس کی پہلے مثال نہیں ،اگلے سال ریاستی اسمبلی کے لئے ہونے  والے عام انتخابات اور 2024ء کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور ملیکارجن کھرگے کا آل انڈیا کانگریس  صدر منتخب ہونا ضرور پارٹی کو اقتدار سے قریب کرسکتا ہےمزید عبدالجبار نے کہا کہ ملیکارجن کھرگے کا آل انڈیا کانگریس صدر منتخب ہونا ملک و ریاست کی سیاست میں ایک تبدیلی لاسکتا ہے ۔