مختار عباس نقوی سے روشن بیگ کی ملاقات; مسلمانوں میں احساس عدم تحفظ کو ختم کرنے پُر زور، وزیر اعظم سے ملاقات کا مشورہ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔سینئررہنماوسابق وزیر آرروشن بیگ کے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر برائے تعلیمی امور مختار عباس نقوی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرتے ہوئے ریاست اور ملک کے مسلمانوں کے سلگتے ہوئے مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ معروف صحافیوں، علماء کرام، دانشوروں اور اسکالرس پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کریں اور مسلم مسائل کی یکسوئی پر زور دیں، طویل ملاقات کے دوران حالیہ دنوں میں جس اندام سے نفرت کا ماحول شدت اختیار کررہا ہے اور اس کے نتیجے میں ساحلی کرناٹک سے لیکر ریاست کے دیگر حصوں اور ملک کے مختلف مقامات میں جس طرح کی زیادتیاں ہورہی ہیں، اس سے تدراک ہر زور دیا گیا اور کہا کہ صورتحال ایسی پیدا ہوگئی ہے کہ ریاست کے مسلمان اپنی بیٹیوں کے تعلیمی مستقبل کو لے کر فکر مند ہوتا جارہا ہے اور ایک طرح سے احساس عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ اگر یہی حال رہا تو گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ ملک کی سالمیت کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر معاشی بائیکاٹ کا اعلان کررہے ہیں۔ یہ ہماری تہذیب نہیں ہے، یہاں ہر مذہب کے ماننے والے آپس میں بھائی چارہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے آئے ہیں، ا س ماحول کو ہرگز بگڑنے نہیں دینا چاہئے، روشن نے کہا کہ حکومت کا نعرہ ہے کہ ’’سب کا ساتھ سب کاوشواس اور سب کا وکاس‘‘ ایسے ملک میں یہ حالات ہر کسی کو فکر مند ہونے پر مجبور کردیتے ہیں، اس لئے سب کو چاہئے کہ نفرت کے ماحول کو پنپنے نہ دیا جائے، عباس نقوی نے ان باتوں کا سخت نوٹس لیا اور بتایا کہ وہ بھی ان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، عنقریب اس خصوص میں وہ ٹھوس اقدامات کریںگے، اور ان مسائل کے تدارک کے سلسلے میں حکمت عملی احتیار کرینگے۔