لسانی اقلیتی مدارس کے اساتذہ کی فلاحی تنظیم کے وفد نے ایجوکیشن کمشنر سے کی ملاقات

اسٹیٹ نیوز
بنگلورو:۔ریاست لسانی اقلیتی مدارس کے اساتذہ کی فلاحی تنظیم رجسٹرڈ بنگلور کے ایک وفد نے للیتا چندرا شیکھرڈی پی آئی اور شمیم ڈی ڈی پی آئی اُردو اور دیگر لسانی و اقلیتی ڈائریکٹوریٹ ،سی پی آئی آفس بنگلور میں ملاقات کی۔جس میں تنظیم کی ریاستی کارگزار صدر فائزہ تبسّم، سینئر نائب صدر آنانڈیشور راؤ، نائب صدر میرلین، ڈویژن صدر سنجیدہ شمائلہ اور ڈویژن کنوینر انیس فاطمہ نے شرکت کی ۔اس بات کی اطلاع تنظیم کے نائب صدر میراساب ملّا نے دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سےایک یاد داشت پیش کی گئی جس میں یس یس ایل سی امتحانات کی تشخیص کا عمل ضلعی سطح پر انجام دینے کی گذارش کی گئی ۔کیونکہ اس مرتبہ محکمہ کی جانب سے تشخیصی عمل ڈویژنل سطح پر انجام دینا طے پایا ہے اور شدید گرمی اور رمضان المبارک کے چلتے اکثریت خواتین اساتذہ ہونے کے سبب دقت پیش آ رہی ہیں ۔موصوفہ نے اس یاد داشت پر نظر ثانی کرنے کی تیقن کی ہے۔اسکے علاوہ محکمہ تعلیمات کی جانب سے پرائمری مدارس میں زائد اساتذہ کا تازہ ترین حکم جاری کیا گیا ہے جس میں لوئر پرایمری میں 2+1 اساتذہ کے تناسب کو بحال کیا گیا ہے۔اس کی شمیم نے تشریح کرتے ہوئے کہا کے یہ آرڈر آئندہ دنوں میں پرائمری مدارس میں بہت کارگر ثابت ہو گا کیونکہ طلباء کی تعداد میں کمی ہو تو بھی پڑھائے جانے والے مضامین میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔اس لیے 12 سے 60 طلباء والے مدارس میں ایک کنڑ اُستاد اور 2 متعلقہ زبان کے اساتذہ کا فارمولا بے حد مفید ہے۔تنظیم کے ممبران نے رمضان المبارک میں مدارس کے نظام الاوقات کے تعلق سےبھی بات چیت کی تو موصوفہ نے کل تک نظام الاوقات جاری کرنے کی بات کہی ہے۔اس کے علاوہ بھی دونوں افسران نے تنظیم کے ممبران سے اقلیتی مدارس کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی مثلاً مراٹھی، تامل تیلگو سی آر پی اسامیوں کی بھر تی، متعلقہ زبانوں میں ٹریننگ کا انعقاد وغیرہ ۔مجموعی طور پر اس ملاقات کا ایک بہترین اور مثبت ردِ عمل رہا جس کیلئے تنظیم کے صدر اور تمام ممبران دونوں افسران کے ممنون و مشکور ہیں ۔واضح رہے کہ محمد سلیم مجاور کی رہبری میں تنظیم ریاست میں کافی فعال ہے۔ریاست بھر سے تمام اقلیتی مدارس کے اساتذہ تنظیم کے مقاصد سے متاثر ہوکر جڑتے جارہے ہیں۔