بنگلورو:۔کرناٹک میں پچھلے کچھ دنوں سے بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے ہرشانامی نوجوان کے قتل کے بعد جو بحث جاری ہے وہ اب این آئی اے کے ہاتھوں میں آچکی ہے۔این آئی اے نے اس معاملے کی تحقیقات باضابطہ طورپر شروع کردی ہے۔20 فروری کو ہرشا کا قتل ہواتھا اور اس معاملے میں شیموگہ پولیس نے دس ملزمان کوتحویل میں لیکر ان کے خلاف قتل کی واردات انجام دینے ،مذہبی منافرت پھیلانے سمیت مختلف دفعات کے مطابق کیس دائرکیا گیا تھا ۔ اب اس معاملے کو قومی جانچ ایجنسی(این آئی اے) کے حوالے کیاگیاہے،اس کیلئے ایک ڈی آئی جی،ایک ایس پی، ایک انسپکٹر،ایک پی ایس آئی،ایک اے ایس آئی،ہیڈ کانسٹیبل سمیت 20 افرادکی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس معاملے کو دہلی میں درج کیاجائیگا،اس کے بعد بنگلورو ریجنل آفیس کو منتقل کیاجائیگا۔بنگلورومیں این آئی اے کا ریجنل دفتر ہونے کی وجہ سے کیس کی چھان بین میں مزید آسانی ہوگی۔این آئی ا ے کی ٹیم ہرشاکے قتل کے معاملے کی تحقیقات کریگی اور اُمید کی جارہی ہے کہ اس معاملے میں اور زیادہ جانکاریاں واضح ہونگی۔اطلاعات کے مطابق تین ملزمان کو این آئی اےنے اپنی تحویل میں لے رکھاہے،بلاری کی سینٹرل جیل سے تینوں ملزمان کو بنگلوروکے پرپنا اگراہارا لایاگیا ہے، جہاں پر این آئی اے ان کی باڈی وارنٹ لیکر تحقیقات شروع کردی ہے۔بقیہ سات ملزمان کو بھی این آئی اے اپنی تحویل میں لے گی۔دریں اثناء اس معاملے کو لیکر کچھ تنظیموں پر بھی نگاہ رکھی گئی ہے اور این آئی اے اس بات کو جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ آخر پردے کے پیچھے کون ہے۔اس معاملے کے تعلق سے تمام دس ملزمان سے بھی تحقیقات ہوگی۔اس معاملے کو این آئی اے کے حوالےکئے جانے پر اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایاہے کہ قتل کے معاملے کوجان بوج کر یو اے پی اے کے تحت درج کروایاجارہاہے اور بی جے پی اس کا فائدہ لینے کی کوشش کررہی ہے۔
