مرکز سو فیصدویکسین کیوں نہیں خریدتا:سپریم کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔کورونا کے خلاف تیاریوں کو لیکر سپریم کورٹ نے آج سنوائی کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر کچھ چبھتے سوالات اٹھائے ہیں۔کورٹ نے سنوائی کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین لگانے کا کام صوبائی حکومتوں کو کیوں دیا گیا ہے اس کام کو مرکزی حکومت کے تحت بھی کیا جا سکتا تھا۔مزید یہ کہ جب ویکسین  بنانے میں مرکزی حکومت نے بھی رقم لگائی ہے تو یہ حکومت ویکسین کا سو فیصد حصہ نہ خرید کر کمپنیوں کو اس بات کی کیوں اجازت دی ہے کہ وہ الگ الگ ریٹ میں صوبائی حکومتوں کو فروخت کریں۔مزید یہ کہ امریکہ اور بھارت جیسے ملکوں کو ایک ہی کمپنی الگ الگ داموں میں کیوں ویکسن فروخت کر رہی ہے اور اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ کورٹ نے اسپتالوں میں مریضوں کے بھرتی ہونے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہ بنانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان حالات میں مریضوں کو بھرتی کرانے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار ہونا ضروری ہے۔کورٹ نے مزید کہا کہ عوام اگر اسپتالوں میں بعد اور آکسیجن نہ ملنے کی شکایت کر رہی ہے تو انہیں اس بات کا حق ہے ان کے خلاف ایکشن لینا صحیح نہیں ہے واضح رہے کہ یوگی حکومت نے شکایت کرنے والے مریضوں کے خلاف ایکشن لینا شروع کر دیا تھا ایسے میں کورٹ کی یہ تنقید بہت معنی رکھتی ہے۔محترم کورٹ نے ڈاکٹروں کی قلت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جو طلباء میڈکل کی یا ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں اور بس سرٹفکیٹ لینا باقی ہے ان کو بھی خدمت کے لیے استعمال کرنے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔