ملک میں جبراً آبادی کنٹرول نہیں کی جائیگی: مسنکھ مانڈویا

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر منسکھ لال مانڈویا نے راجیہ سبھا میں کہا کہ ملک میں جبراً آبادی کنٹرول نہیں کی جائے گی بلکہ عوام خود اسے کنٹرول کر رہے ہیں اور اس کیلئے بیداری مہم بھی چلائی جا رہی ہے آبادی کنٹرول کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے راکیش سنہا کے پرائیویٹ بل پاپولیشن ریگولیشن بل 2019 پرہوئی بحث کے دوران مانڈویا نے مداخلت کی اور کہا کہ ملک میں قومی آبادی کی پالیسی اور قومی صحت کی پالیسی کو نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت بیداری مہم چلائی جا رہی ہے۔ جن ریاستوں میں آبادی بڑھ رہی ہے ان کی نشاندہی کی گئی ہے اور وہاں عوام کو بیدار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ کی شرح دو فیصد پر آگئی ہے اور اسے اس سطح پر مستحکم رکھنے کی ضرورت ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کامیاب ہو رہی ہے اور شرح پیدائش کم ہو رہی ہے۔ حکومت سبھی لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور آیوشمان بھارت اسکیم کا فائدہ غریبوں کو دلایا جا رہا ہے۔ اس سے تقریباً تین کروڑ لوگ مستفید ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 1.5 لاکھ ہیلتھ اینڈ ویلنیس سنٹرقائم کیے جائیں گے جن میں سے ایک لاکھ 10 ہزار پر کام شروع ہو چکا ہے۔ یہاں عوام کی بیماریوں کا علان ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے کیا جا رہا ہے۔ وزیر صحت کی اس یقین دہانی کے بعد مسٹر سنہا نے اپنا پرائیویٹ بل واپس لے لیا۔اس سے قبل راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے آج کہا کہ ملک میں آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کو جمہوری طریقے سے لاگو کیا جانا چاہئے اور اس میں کسی خاص برادری کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے -کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے ونے وشوام نے راجیہ سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے راکیش سنہا کے ذاتی بل ‘پاپولیشن ریگولیشن بل 2019’ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بل کی دفعات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس میں ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ناانصافی ہے – ترنمول کانگریس کے جواہر سرکار نے کہا کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس بل کی شق سے اتفاق نہیں کرتے جس میں قومی آبادی کی پالیسی پر نئی نظر ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے – انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کا بہترین طریقہ خواتین کو خواندہ بنانا اور انہیں بااختیار بنانا ہے ۔ڈی ایم کے کے تروچی سیوا نے کہا کہ جو ریاستیں خاندانی منصوبہ بندی پر صحیح طریقے سے عمل کرتے ہوئے آبادی کو کنٹرول کر رہی ہیں انہیں سزا دی جا رہی ہے – ان ریاستوں کی سیٹیں کم کی جارہی ہیں اور انہیں مختلف اسکیموں کے تحت دی جانے والی رقم کو بھی کم کیا جارہا ہے ۔کانگریس کے جے رام رمیش نے کہا کہ آبادی کنٹرول کی پالیسی ہندوستان میں کامیاب رہی ہے اور وہ بھی جمہوری طریقے سے – انہوں نے کہا کہ اس لیے اب اس میں کوئی تجربہ نہیں کرنا چاہیے – انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کی شرح ایک طرح سے استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور کچھ ریاستوں میں یہ استحکام کے قریب ہے – انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی پر قابو پانے کی پالیسی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے شروع کی تھی اور یہ جمہوری طریقے سے اٹھائے گئے اقدامات کے بل بوتے پر پوری طرح کامیاب رہی ہے -انہوں نے کہا کہ آبادی کنٹرول اور خاندانی منصوبہ بندی کرتے ہوئے نظریے کو حقیقت پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کو اب ایک بڑی آبادی کی عمر بڑھنے کے مسئلے کا سامنا ہے، جس سے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔