شیموگہ:۔پچھلے دو سالوں سے کورونا کے سبب جہاں لوگوں کاباہرنکلنا پوری طرح سے متاثرہوچکاتھاوہیں ہر سال افطار پارٹیاں کروانے ٹولیوں کوبھی نقصان اٹھانا پڑاتھا،عام طور پر سیاستدانوں کے یہاں اپنے سیاسی آقائوں کو خوش کرنے کیلئے افطارپارٹیوں کا اہتمام کیاجاتاہے۔امسال بھی رمضا ن المبارک کی آمدکے دوران کئی سیاسی پارٹیوں نے افطارکی دعوتوں کا اجتماعی نظم رکھاہے جس میں دین کی دعوت ہوتی ہے ، نہ روزے کا مقصدبیان کیاجاتاہے اور نہ ہی رمضان کی حقیقت بیان ہوتی ہے،یہاں صرف اور صرف اپنے سیاسی قائدین کوخوش کرنے ،اُن کی واہ واہی بٹورنے ،اُن کے منہ میں زیادہ سے زیادہ گوشت ٹھونسنے یا پھر نان ویج دسترخواں پر ویج کا دعویٰ کرنےو الے لیڈروں کی خوش آمد کرنے کا سلسلہ چلتاہے۔افطار پارٹیوں کاانعقاد صرف مسلمانوں کی طرف سے ہی نہیں کیاجاتابلکہ بعض افطار پارٹیوں کیلئے خود سیاسی قائدین اسپانرشپ کرتے ہیں جس میں ان کے چیلے واہ واہی بٹورنے کیلئے افطار دعوتوں کو برانڈ افطار دعوت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس طرح کی دعوتوں سے جہاں مسلمانوں اور اسلام کا بول بالاہوناتھا وہیں سیاسی قائدین کی دعوتوں سے مسلمانوں کو نقصان زیادہ پہنچاہے۔ایک طرف سیاسی افطار پارٹیوں کا دور چلتاہے تو دوسری طرف کچھ لوگوں کیلئے افطار پارٹیاں کمرشیل بن جاتی ہیں۔کمرشیل اس لئے کہ یہ لوگ افطار پارٹیوں کے نام پر چندہ وصولی کے دھندےپر اترآتے ہیں اور مختلف گلیوں ومحلوں میں افطار کروانےکیلئے چندے وصول کرتے ہیں ۔چندے کے ذریعے سے افطارکروانا اسلام میں دور دور تک ثابت نہیں ہے،البتہ یہ غیر قوموں کے تہواروں سے مشابہت رکھتاہے ، جیسا کہ ہولی کے موقع پر لمبانی ، گنیش کے تہوارپر ہندوئوں کی جانب سے چندہ وصول کیاجاتاہے،بالکل اُسی طرح سے افطارکیلئے ٹولیاں بنا کر چندے وصول کئے جاتےہیں،جس سے مسلمانوں کی بدنامی زیادہ ہوتی ہے۔بعض لوگ تو اسی پر چندے پر اپنی تین چا رمہینے کی زندگی آرام سے گذارلیتے ہیں،کیونکہ یہ افطارکیلئے چندہ تو وصول کرتے ہیں لیکن افطارکی دعوت نہیں کرتے۔تیسرازمرہ ہے سوشیل افطارپارٹیوں کاہے،جس میں دعوتیں تو کی جاتی ہیں او ران دعوتوں کا چرچہ سوشیل میڈیا پر کیا جاتا ہے ۔ اس چرچے سے کسی کوفائدہ ضرورنہیں پہنچتا ، البتہ جن لوگوں کی استطاعت نہ ہو اور جو لوگ پریشان حال ہیں اُن کیلئے یہ دل شکنی اور دردکی بات ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ افطارکی دعوتیں ،دعوتِ دین کیلئے کی جائیں یا پھر اسلامی پیغام کوعام کرنے کیلئے کی جائیں،نہ کہ سوشیل،پالیٹیکل اور کمرشیل بنیادوں پر دعوتوں کااہتمام ہو۔
