دہلی:۔سپریم کورٹ نے اس درخواست کی سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے جس میں درخواست گزار نے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر فوری سماعت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ انتخابی بانڈ سسٹم کی خامیوں سے متعلق یہ عرضی گزشتہ سال سے زیر التوا ہے۔غیر سرکاری تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کی جانب سے پرشانت بھوشن نے معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ہر دو ماہ بعد انتخابی بانڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ کلکتہ کی ایک فرم نے ایکسائز چھاپوں سے بچنے کے لیے 40 کروڑ روپئے کا انتخابی بانڈ دیا ہے۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ اس کے ذریعے جمہوریت کو برباد کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار نے فنانس بل کے تحت انتخابی بانڈ اسکیم کو چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے درخواست گزار نے دلیل دی کہ میڈیا میں یہ بات بھی چل رہی ہے کہ اکسائز ڈیوٹی سے بچنے کا الزام لگانے والی کولکاتہ کی ایک کمپنی نے 40 کروڑ روپئے کے بانڈز خریدے ہیں اور چھاپوں سے بچنے کے لیے ایک ٹیم کو دئیے ہیں۔بھوشن کی اس دلیل پر چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ گزشتہ سال اگر کووڈ بحران نہ ہوتا تو ہم پہلے بھی سماعت کرسکتے تھے۔ لیکن اب ہم اس معاملے پر جلد سماعت کے لیے غور کریں گے۔
