شیموگہ: ایک طرف تمام اپوزیشن پارٹیاں وزیرداخلہ ارگاگیانیندر کے استعفیٰ کیلئے منتظر ہیں اوران پر کئی طرح سے دبائوڈال رہے ہیں کہ وہ اس عہدے سے برطرف ہوجائیں وہیں دوسری طرف وزیر ایشورپا نے ارگاگیانیندر کی یہ کہتے ہوئے باقاعدہ حمایت کی ہے کہ وزیر داخلہ کو ملنے والی بنیادی معلومات کی بنیاد پر ہی انہوں نے اپنا بیان جارہی کیا تھا اورجب انہیں پتہ چلا کہ یہ غلط معلومات تھیں تو انہوں نے دوسرے ہی پل اپنے بیان کیلئے معافی مانگ لی ہے کیا ایسا کرنا غلط ہے؟۔ ایشورپا نے آج میڈیا کے نمائندوں سے ارگاگیانیندر پر اٹھنے والے الزامات اور کانگریس لیڈروں کی تنقید وں پر وار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا کام ہی حکمران پارٹی پر تنقید کرنا ہے۔ واضح ہوکہ چندرو قتل کے بارے میں چرچہ ہونی چاہئے تھی لیکن اتنے میں ہی مسکان کو لیکر القائدہ کےلیڈر کا بیان سرخیوں میں رہا اس سلسلے میں مسکان کے والد نے واضح کردیا ہے کہ القائدہ اورانکاکوئی تعلق نہیں وہ نہیں ۔انہیں سوشیل میڈیاکے ذریعہ سے ہی اس بارے میںمعلومات ملی ہیں ۔اس کے درمیان ہی سدرامیا نے کہا کہ کوئی القائدہ نہیں ہے یہ آرایس ایس ہی کا پھیلایا ہوا ہے۔ اس بیان پر ایشورپا اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کو اس بات کا بھی شعور نہیںہے کہ کون راشٹرواد ی ہیں اورکون آتنگ واد ی؟۔ایشورپا نے مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس اگر ایسے ہی اپنارویہ برقراررکھتی ہے تو یہ یقینی ہے کہ وہ اگلی بار اپوزیشن کا عہدہ بھی کھوبیٹھے گی۔ انہوںنے ڈی کے شیوکمار کے بھدراوتی دورے پردئے گئےبیان کی مذمت میں کہا کہ شیموگہ ضلع کا چین وسکون چھین لیا گیا ہے۔ تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ ڈی کے شیوکمار بھدراوتی کو شیموگہ کا چین وسکون واپس لوٹانے کیلئے آئے تھے؟
