مسلمانوں کےساتھ شادی کرنے والوں کے خاندانوں کا بائیکاٹ : سرکاری لیٹرہیڈ میں متنازعہ خط

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

ہبلی :ریاست میں حجاب، حلال ، مسلم تاجروں کا بائیکاٹ ،اذان ،لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے تنازعے کے بعداب بی جے پی لیڈر کے ایک خط نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ بی جے پی لیڈر نےاپنے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ مسلم سماج کے نوجوان مردوں اور عورتوں سے شادی کرچکے ایس ایس کے سماج (سوماومشا سہسرارجن کشتریا سماج)خاندانوں کا بائیکاٹ کریں۔ جی ہاں! مسلم نوجوانوںکے ساتھ شادی کرنے والے اپنے سماج کے خاندان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے کہتے ہوئےہڈا کے صدر ناگیش کلبرگی نے ایس ایس کے کمیونٹی کے ٹرسٹیوں کو سرکاری لیٹرہیڈ میں یہ خط لکھا ہے۔ ابھی تین دن پہلےہی ایس ایس کے کمیونٹی کی ایک نوجوان لڑکی نے ایک مسلم نوجوان کے ساتھ رجسٹرار میریج کرائی تھی۔جس کے بعد لو جہاد کے نام سے کچھ تنظیموںنے ایک بہت بڑا احتجاج بھی کیاتھا۔لیکن نوجوان لڑکی نے بتایا کہ وہ اس سے پیار کرتی ہے اور وہ اپنی پسند اورمرضی سے شادی کر رہی ہےاس شادی کیلئے کسی نے اس پر دبائو نہیں ڈالاہے۔ اس پس منظر میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاشرے کے مفادات کیلئے اس خاندان کا بائیکاٹ کردیا جائے۔اس کے علاوہ خط میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے معاشرے میں کوئی بھی مسلمان نوجوان اور خواتین سے شادی کئے ہوئے ہیںیا کرتے ہیں تو، ایسے خاندانوں کو معاشرے سے خارج کردیا جائے ، انکا مندر وںمیں داخلہ پر پابندی عائد کی جائے، ایسے خاندانوں سے کوئی شادی نہ کرے، اور کسی بھی سماجی پروگرام میں انہیں شرکت سے منع کرنے کا دبائو ڈالاگیا ہے۔واضح ہوکہ اس متنازعہ ایک سرکاری لیٹرہیڈ کا اسطرح غلط استعمال کو لیکر عوا می سطح پر شدید برہمی اورغصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔