بچوں کو گود لینے کے قوانین میں نرمی کی درخواست پر سپریم کورٹ کامرکز سے جواب طلب

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ سپریم کورٹ ہندوستان میں بچوں کو گود لینے کے قوانین اور طریقوں میں نرمی کی درخواست کرنے والی ایک درخواست کی جانچ کرنے کے لیے تیار ہے۔ عدالت نے مرکز کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے، حالانکہ عدالت نے دوسرے ملک کے لیے گود لینے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ درخواست گزار تنظیم ٹیمپل آف ہیلنگ کی جانب سے کہا گیا کہ ہندوستان میں ہر سال تقریباً چار ہزار بچوں کو گود لیا جاتا ہے جبکہ تین کروڑ بچے یتیم ہیں۔ والدین اکثر اتنے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے ہیں۔ بچوں کو گود لینے کا عمل ہندو ااپشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ کے تحت ہوتا ہے۔ یہ وزارت قانون و انصاف کے زیر انتظام ہے، لیکن یتیموں کا موضوع خواتین واطفال کی وزارت کے زیر انتظام ہے۔یہ ایک بہت بڑی کمی ہے۔ حکومت مصروف ہونے کی وجہ سے ان کی نمائندگی پر کارروائی نہیں کر رہی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتی کہ بچے غلط ہاتھوں میں جائیں، جیسا کہ کریڈٹ کارڈ کے ساتھ ہواتھا۔ پہلے کوئی بھی دھوکہ دہی کے ڈر سے کریڈٹ کارڈ نہیں دیتا تھا لیکن اب ہر کوئی کریڈٹ کارڈ استعمال کرتا ہے۔ اس ملک کے شہری چور یا بدمعاش نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے۔درخواست گزار نے کہا کہ تین کروڑ لوگ ایسے ہیں جو ماں؍باپ نہیں بن سکتے۔ ایسے میں ان تین کروڑ یتیموں کو گود لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک کیس کا حوالہ دیا جہاں ایک شخص کے پہلے ہی تین بچے تھے۔ چوتھے بچے کے وقت اس نے اپنے بڑے بھائی سے کہا جس کے بچے نہیں تھے اسپتال کا بل ادا کر کے بچے کو لے جائیں۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کو اس کا علم ہوا اور اس معاملے میں ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے، گود لینے کے قوانین کو آسان بنایا جانا چاہیے۔