شوبھایاترا کے دوران گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور گوا میں مسجدوں پر حملہ ، پتھرائو، گھروں میں آتشزدگی،درگاہ بھی نذرآتش، ایک ہلاک، ایم پی میں کرفیو ، مسلمانوں پر ایک طرفہ کارروائی، 70 سے زائد گرفتاریاں، شیوراج حکومت نے مسلمانوں کے لاتعداد گھروں پر بلڈوزر چلاکر مسمار کردیا،دہلی فساد کے پوسٹر بوائے کپل مشرا بھی کھرگون شوبھا یاترا میں موجود تھے
دہلی:۔رام نومی کے تہوارپر ہندو شدت پسند وں کی جانب سےملک کی کئی ریاستوں میں ہنگامہ ہوا ہے۔ ان ریاستوں میں گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ ، مغربی بنگال اور گوا شامل ہیں۔ان ریاستوں میں اشتعال انگیز اور دل آزار نعروں کے ساتھ مساجد پر بھگوا جھنڈے لہرائے گئے ۔پتھرائو اور آتشزدگی کی واردات بھی رونما ہوئی ہے، جس میں کئی زخمی اور کئی گھر خاکستر ہوگئے ہیں۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کے کھرگون کے مختلف حصوں میں اتوار کو رام نومی کے جلوس کے دوران پھوٹ پڑنے والی جھڑپوں میں کم از کم ۱۰مکانات کو نذر آتش کر دیا گیا اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سدھارتھ چودھری سمیت دو درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے، جس کی وجہ سے انتظامیہ کو شہر کے کچھ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑا۔کھرگون کے ضلع کلکٹر انوگرہ پی کے مطابق پتھراؤ کا پہلا واقعہ شام پانچ بجے کے قریب اس وقت پیش آیا، جب رام نومی کا جلوس تالاب چوک سے نکلا تھا اور بمشکل ۵۰۰ میٹر آگے بڑھا تھا۔ پولیس نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ذرائع کے مطابق تالاب چوک مسجد کے قریب تصادم اس وقت شروع ہوا جب کچھ لوگوں نے جلوس کے دوران چلائے جانے والے اشتعال انگیز گانے کی مخالفت کی، واقعے کی ویڈیوز میں ایک ہجوم کو مسجد اور اس کے قریبی گھروں پر پتھراؤ کرتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے، پولیس ہجوم کو منتشر کرتی نظر آ رہی ہے۔جب یہ واقعہ رونما ہوا تو بی جے پی لیڈر کپل مشرا بھی شری رام جنم شوبھا یاترا جلوس میں شرکت کے لیے کھرگون میں تھا۔ ٹویٹر پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا“نہ موسیٰ نہ برہان، بس جے شری رام۔ ہماری رام نومی یاترا کھرگون، مدھیہ پردیش، می شورو‘‘۔کلکٹر نے کہا کہ تالاب چوک کے تصادم کی وجہ سے قاضی پورہ اور شہر کے دیگر حصوں میں جھڑپیں ہوئیں اور کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ کھرگون شہر سے ۶۰کلومیٹر کے فاصلے پر، ملحقہ بروانی ضلع کے فرقہ وارانہ طور پر حساس سیدھوا بلاک میں بھی اسی طرح کی جھڑپیں اور پتھراؤ ہوا۔ایس پی کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کلکٹر انوگرہ پی نے کہا ’’ان کی ٹانگ میں چوٹ آئی ہے۔ ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چل سکا ہے کہ گولی لگی ہے یا دوسری چوٹ ہے۔‘‘ کھرگون کے کانگریس ایم ایل اے روی جوشی نے، جنہوں نے اتوار کی رات جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے روزنامہ انڈین ایکسپریس کو بتایاکہ "یہ واقعہ پولیس کی طرف سے انتہائی لاپروائی کی وجہ سے پیش آیا۔ یہ اتنا بڑا واقعہ تھا لیکن موقع پر شاید ہی کوئی پولیس اہلکار موجود تھا۔ میں نے کلکٹر سے کہا ہے کہ وہ امن کو یقینی بنائیں۔ واقعہ کی اصل وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہے‘‘۔کھرگون میں حالات پر قابو پانے کے لیے کرفیو لگا دیا گیاہی۔ شہر میں دفعہ ۱۴۴بھی نافذ کر دی گئی ہے۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں فسادی سڑکوں پر گھومتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر دیواریں گرائی جارہی ہیں۔ پولیس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا اس نے جلوس میں ڈی جے بجانے کی اجازت دی تھی۔ کیونکہ یہیں سے تنازع شروع ہوا۔ تاہم، ایک ویڈیو کی بنیاد پر، صرف اس کمیونٹی کو اس واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا،کیونکہ کچھ متضاد ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں۔کھرگون میں حالات فی الحال قابو میں ہیں لیکن انتظامیہ پر مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی کا الزام عائد کیاجارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کہ جن گھروں سے پتھرائو ہوا ہے انہیں پتھروں کا ڈھیڑ بنائیں گے۔ رام نومی جلوس میں کھرگون کی مسجد پر حملہ ہوا، مسلمان زخمی ہوئے، بعد میں انہیں ہی گرفتار کیاگیا اور اب ان ہی کے گھروں کو بلڈوزر سے توڑا جارہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے سیندھوا میں بھی ایک مزار پر حملہ کی خبر ہے جس کے بعد وہاں بھی پتھرائو ہوا ۔ ادھر رام نومی کے جلوس کے دوران گجرات کے آنند سمیت دو شہروں میں پتھراؤ کی اطلاعات ہیں۔ جس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔ اس دوران آتش زدگی کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس دوران پولیس نے آنسو گیس چھوڑ کر تشدد پر قابو پالیا۔گجرات کے ہمت نگر اور کھمبھاٹ قصبوں میں اتوار کو رام نومی کے جلوسوں کے دوران دو فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئیں۔ جس کے بعد پولیس کو بھیڑ پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کرنا پڑا۔کھمبھات میں ایک ۶۵سالہ شخص کی لاش ملی ہے، جبکہ ہمت نگر میں بھیڑ نے کچھ دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ دنوں طبقوں کے لوگوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا جب دوپہر کو سابر کانٹھا ضلع کے ہمت نگر قصبے کے چھپریہ علاقے میں رام نومی کا جلوس نکلا۔ افسر نے کہا ’’پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ بعد ازاں صورتحال پر قابو پانے کے لیے شہر کے باہر سے اضافی پولیس فورس طلب کی گئی۔اسی دوران، ایک اور معاملے کے بارے میں، پولس کنٹرول روم کے ایک افسر نے بتایا کہ آنند ضلع کے کھمبھاٹ قصبے میں رام نومی کے جلوس کے دوران جھڑپ ہوئی تھی،جس میں شدید پتھراؤ کیا گیا، یہاں بھی دکانوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ہمت نگر میں ایک مسجد اور مزار کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں مزار سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کرناٹک کے رائچور ؤ میں رام نومی ریلی کے دوران عثمانیہ مسجد کے پاس ہندو انتہا پسندوں کا ہجوم اونچی آواز میں ڈی جے میوزک بجا تا رہا اور اشتعال انگیزی نعرے بازی کرتا رہا۔ اسی طرح بہار کے مظفر پور ضلع میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک مسجد کی بے حرمتی کی اور اس کے دروازے کے اوپر زعفرانی جھنڈا لگا دیا۔مظفر کے کتھیا تھانہ کے اسواری بنجریا میں عیدگاہ کے گنبد پر بھگوا جھنڈا لہرانے پر دو فریقوں میں کشیدگی پیدا ہوئی، پولس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پالیا۔ اسی طرح شوبھا یاترا کے دوران بنگال کے ہاوڑہ میں کشیدگی کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ شیو پور علاقے میں تصادم کے بعد حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے رام نومی کے جلوس پر حملہ کیا۔ پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی قسم کی جھوٹی خبریں نہ پھیلائیں۔جھارکھنڈ کے لوہاردگا میں رام نومی کے جلوس کے دوران پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں اور تین لوگوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔گوا کے اسلام پورہ علاقے کی مسجد اقصیٰ میں شام کے وقت ہندو انتہا پسندوں میں مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی اور افطار کے وقت مسلمانو ںکو پریشان کرنا چاہا، اس دوران بڑی تعداد میں مسجد کے باہر فرقہ پرست دل آزار نعرے لگارہے تھے اور ا ن کے ہاتھوں میں بھگوا جھنڈا تھا۔ دوسری جانب واسکو علاقے میں بھی شرپسندوں کے ذریعہ مسجد نماز تراویح کے دوران حملہ کیاگیا ہے۔
