کیا نیپال کی ’لنکا ‘سری لنکا جیسے اقتصادی بحران سے دوچار ہوجائیگی؟

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر

کٹھمنڈو:۔نیپال میں بھی سری لنکا جیسے اقتصادی بحران کا خوف پیدا ہورہا ہے۔ حکومت نیپال نے اپنا خرچ کم کرنے کے لیے کار، سونا اور کاسمیٹکس جیسی مصنوعات کی درآمدات گھٹا کر نصف کردی ہے۔نیپال کے غیرملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ کم ہوکر تقریباً نصف رہ جانے کے بعد حکومت نے کار، سونا اور کاسمیٹکس کی درآمدات پر سختی کردی ہے۔ ملک کے سینٹرل بینک کے ایک عہدیدار نے پیر کے روز بتایا کہ یہ فیصلہ سینٹرل بینک کے گورنر کو معطل کرنے اور ان کے نائب کو عبوری سربراہ بنانے کے بعد کیا گیا ہے۔ہمالیائی مملکت نیپال کو بھی اسی طرح اقتصادی مار جھیلنی پڑی ہے جس کا سامنا سری لنکا کو کرنا پڑا۔ سیاحت پر منحصر اس کی معیشت کورونا وبا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی اور اس کا غیر ملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ تقریباً نصف رہ گیا۔نیپال راشٹر بینک (این آر بی) کے نائب ترجمان نارائن پرساد پوکھریال نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخیرے پر کافی دباو ہے۔ این آر بی کو لگتا ہے کہ چونکہ ملک کا غیر ملکی زرمبادلہ کا ذخیرہ کافی دباو میں ہے اس لیے ضروری اشیاء کی فراہمی کو متاثر کیے بغیر غیر ضروری چیزوں کی درآمدات پر لگام کسنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ کن اشیا کی درآمدات پر پابندی لگائی جارہی ہے لیکن کہا کہ درآمد کنندگان کو 50 آسائشی اشیاکی درآمد کے لیے مکمل ادائیگی کے بعد ہی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ان اشیا کی درآمدات کے بارے میں نئے ضابطوں سے تمام کسٹم پوائنٹس کو مطلع کردیا ہے۔یہ درآمدات پر پابندی نہیں ہے بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔نیپال کی وزارت خزانہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ این آر بی کے گورنر مہاپرساد ادھیکاری کو جمعے کے روز معطل کیوں کیا گیا تاہم کہا کہ ایک حکومتی پینل معاملے کی تفتیش کرے گا۔حالانکہ ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گورنر ادھیکاری پر حساس مالیاتی اطلاعات میڈیا میں لیک کرنے کے الزامات تھے۔ادھیکاری نے اس الزام پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ روئٹرز نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا موبائل فون سوئچ آف ملا۔نیپالی حکام کا کہناہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ کا موجودہ ذخیرہ 29ملین آبادی والے اس ملک میں اگلے چھ ماہ تک درآمدات کے لیے کافی ہوگا۔ خیال رہے کہ بھارت اور چین دونوں کی نیپال کو اپنے زیادہ سے زیادہ اثر میں لینے کی کوشش کررہے ہیں۔