شیموگہ :۔ صرف شہری علاقوں میں نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی بچہ مزدور کا پتہ لگانے کیلئے مسلسل کارروائی جاری رکھنی چاہئے۔اس بات کی ہدایت ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سیلوامنی نے افسران کو دی ہے۔انہوں نے آج ضلعی سطح کی کمیٹی کے اجلاس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں میں دیہی بچوں سےکام کروانے کا امکان زیادہ ہے۔ سپاری کے باغات، اینٹ کی بھٹیوںمیں، پولٹری فارم سمیت تمام علاقوں کا مکمل معائنہ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔اس بات کویقینی بنانا ہوگا کہ تمام گرام پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں چائلڈ لیبر وں کی موجودگی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تحصیلداروں کو چاہئے کہ وہ تعلقہ سطح پر بھی جانچ کریں اور اگر بچہ مزدور پائے گئے تو مالکان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔چائیلڈ لیبر پلاننگ آفیسر رگھوناتھ نے معلومات دی ہے کہ گزشتہ سال ضلع میں بچہ مزدوروں کا پتہ لگانے کیلئے 638 اچانک چھاپے ڈالے گئے ہیں۔ 7 معاملات میںبچہ مزدوروں کا پتہ لگاتے ہوئے ایف آئی آر داخل کی گئی ہے اور پچھلے سال ضلع میں چائلڈ لیبر کا سروے بھی کیا گیا ہےاور ضلع میں 58 خطرناک صنعتوں اور 11262 غیر مؤثر صنعتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان تمام جگہوں میں بچوں سےمزدوری کروائی جارہی ہے یا نہیں اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے ۔ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر ضلع میں کہیں بھی بچہ مزدورپائے جاتےہیں تو عوام 1098 پر کال کر کے شکایت درج کر سکتے ہیں۔ بچہ مزدوری کے رواج سےبچوں کے استحصال، جنسی زیادتی اور مجرمانہ کارروائیوں کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہاہمیں چائلڈ لیبر کاشروعات ہی میں پتہ لگانے میںاور مناسب کارروائی کرنے کیلئےتمام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے چائلڈ لیبر بیداری پوسٹرجاری کئے۔اس موقع پر اڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ناگیندر ہوناہلی، ڈسٹرکٹ لیبر ویلفیئر آفیسر سیبی رنگیا، ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری ملکارجن اور تحصیلدار موجود تھے۔
