بنگلورو:کرناٹکا میں پچھلے کچھ دنوں سےحلال اور جھٹکاکے تنازعہ کے درمیان بکروں اور بھیڑوں کی خریدوفروخت میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔اس بات کاانکشاف دکن ہیرالڈ اخبارکی ایک رپورٹ سے ہواہے۔رپورٹ کے مطابق چتردرگہ کے بکر امنڈی میں ہر جمعرات کو6تا8ہزار بکروں کی خریدوفروخت ہواکرتی تھی،لیکن اس دفعہ دو تا تین ہزار بکرےاور بھیڑ فروخت ہو پائے ہیں۔چتردرگہ کی بکرا منڈی ریاست کے بڑے بکرا منڈیوں میں شمار ہوتی ہے،یہاں پچھلے کئی عشروں سے بکروں کی خریدوفروخت ہوتی رہی ہے،لیکن حلال اور جھٹکا تنازعہ کے درمیان اس دفعہ بڑے پیمانے پر کمی دیکھی گئی ہے،کچھ تنظیموں کی جانب سے حلال گوشت پر پابندی عائدکئے جانے کےمطالبے کے بعد مسلم قصائیوں نےبکروں کی خریدوفروخت میں کمی لائی ہے۔مقامی تاجروں کا کہناہے کہ حلال اور جھٹکاکے تنازعہ نے خریداروں کو منڈیوں کوآنے سے روکنے کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ریاست میں ہر ہفتے18.37لاکھ سے زیادہ بکرے صرف چتردرگہ میں ہی فروخت ہوتے ہیں،ضلع کے چلکیرے اور ہریور تعلقہ میں سب سے زیادہ بکرا پالن کے مراکز ہیں۔ایک کسان کا کہناہے کہ میں ہر ہفتے25 سے زیادہ بکرے فروخت کرتاہوں لیکن اچھی قیمت پر خریداری کرنے والے مسلمان اس منڈی کا رخ نہیں کررہے ہیں،اس وجہ سے پچھلے دو ہفتوں سے میں نے محض دس بکرے ہی فروخت کئے ہیں اور ان بکروں کی قیمت بھی 4ہزار روپئے سے زیادہ نہیں ہوپائی ہے،جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہورہاہے۔عام طورپر اس بکرامنڈی میں5ہزار روپئے تک بکرے فروخت کئے جاتے تھے۔منڈی کے ایک دلال امام صاحب کا کہناہے کہ اطراف واکناف سے ہر ہفتے خریدار اس منڈی کا رخ کرتے تھے،کم ازکم ایک خریدار یا قصائی 200 بکروں کی خریداری کرتےتھے،لیکن اب یہ ماحول نہیں رہا،جس سے بکرامنڈی میں کاشتکاروں کو نقصان اٹھاناپڑرہاہے۔
