شیموگہ:۔روزنامہ آج کاانقلاب سے جڑے ہوئےفوٹو جرنلسٹ محمد رفیع قادری کے قتل کی سازش کرنے والے 13 ملزمان کو پولیس نے حراست میں لیاہے۔ہرشا کے قتل کے بعد شہرمیں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ کشیدگی کے دن رپورٹنگ کرنے پہنچے محمد رفیع قادری پر جان لیواحملہ ہواتھا،سیگے ہٹی میں اُس دن صبح 11.30 بجے رفیع پر ایک گروہ نے حملہ کیاتھا۔اس سلسلے میں دوڈاپیٹے پولیس تھانے میں معاملہ درج کروایاگیاتھا۔اس معاملے کی چھان بین کرتے ہوئے پولیس نے راکی نامی نوجوان کو تحویل میں لیا جس کے بیان کے بعد 12 حملہ آواروں کو حراست میں لیاہے۔راکی نے بتایاکہ ہرشاکے قتل کے بدلے میں ایک مسلمان کا قتل کرنا ہمارا ارادہ تھا،اس وجہ سے ہم نے رفیع پر حملہ کیاتھا اور اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا ۔ اس واردات میں گرفتار کئے گئے ملزمان کی شناخت راکی عرف کوللّا راکی،وشواس عرف وینکٹیش، نیتن، یشونت، کارتک، آکاش، پروین، سوہاس، سچن رائکر،سنکیت،راگھو،منجو اور وشال کے طو رپر کی گئی ہے۔بتایاجارہاہے کہ گرفتارکئے گئے ملزمان میں کچھ ملزم ہرشاکے نام پر قائم کی گئی ٹرسٹ کے اراکین بھی ہیں،جو آنے والے دنوں میں بھی مسلمانوں کا قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ غورطلب بات یہ ہے کہ اس ٹرسٹ کا صدرایشورپاکا بیٹا کے ای کانتیش ہے،جبکہ کارگزار صدر ہرشاکی بہن ہے۔

سب نے دلاسے دئیے لیکن مدد کسی نے نہیں کی:شہراز مجاہد صدیقی
ہرشاکے قتل کے دوران جہاں پر کچھ لوگوں کو معمولی مالی نقصان کا سامنا کرناپڑتھا،وہیں اُس دن محمد رفیع قادری کو سب سے بڑا نقصان اٹھاناپڑاتھا،اُس دن رفیع کی جان بچی ہے یہ خوش نصیبی کی بات ہے،قتل کرنے کی کوشش کے بعد زخمی رفیع قادری کو پہلے سرکاری اسپتال میں داخل کروایاگیاتھا،جہاں پران کا مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے نجی اسپتال میں داخل کرناپڑاتھا،جس پر انہیں ہزاروں روپیوں خرچ کرنے پڑے،لیکن اس سب سے زیادہ مستحق نوجوان کی کسی نے مددنہیں کی،یہ قابل افسوس بات ہے ۔ اس بات کااظہاراڈوکیٹ شہراز مجاہد صدیقی نے کیاہے۔انہوں نےسازش میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے بعد روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محمد رفیع قادری اپنی ذمہ داری کو نبھانے کیلئے موقعے پر پہنچے تھے،جہاں پر انہیں ہندو شدت پسندوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی،اس کے بعد انہیں اسپتال میں مشکل دور سے گذرنا پڑاوہ اب بھی اپنے زخموں کی وجہ سے پریشان ہیں،لیکن مسلم تنظیموں نےرفیع قادری کے اس مشکل وقت میں امدادکیلئے ہاتھ بڑھانے کے بجائے خاموشی اختیارکرلی ہے،کچھ تنظیموں نے مالی امداد پہنچانے کابیڑااٹھایاتھا لیکن انہوں نے اس مستحق رپورٹر کو امداد پہنچانے کے بجائے غیروں کو مالی امداد پہنچاکر واہ واہی بٹورنے کی کوشش کی ہے،اس سے یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ مسلم تنظیموں کو اپنوں نے کی کتنی فکرہے،جہاں ہرشاجیسے غنڈے کی موت پر کروڑوں روپیوں کاچندہ دینے کیلئے ہندوقوم متحد ہوئی تھی وہیں بے باکی کے ساتھ رپورٹنگ کرنے پہنچے رفیع کو ان کی اپنی ہی قوم نے جھٹلایاہے۔اگرملت کے نوجوان جو قوم کو درد لیکر کام کرتے ہیں اُن کی امدادکرنے سے قوم پیچھے ہٹے گی تو آنے والے دنوں میں کون اپنی جان کی بازی لگانے کیلئے آگے آئیگا؟اگر رفیع کا بروقت علاج نہ ہوتاتو ان کے اہل خانہ کا کیا حال ہوتا یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ شہرکی نمائندہ تنظیمیں اس سلسلے میں سوائے دلاسے دلانے کے اور کسی بھی طرح کی مددکیلئے آگے نہیں آئے ہیں۔میں ملّی تنطیموں سے گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ تعصب کے آئینے نکالیں اور کام کرنےو الوں کی ہمت افزائی کریںا وران کی امدادکریں،تبھی ملت میں نڈر اور بے باک،بے خوف نوجوان ملت کیلئے کام کرنےکیلئے آگے آئینگے۔
