شیموگہ: ریاست میں امن و امان کی حالت خراب نہیں ہوئی ہے،سب ٹھیک ہے، محکمہ پولیس نے سخت کارروائی کی ہے ۔ ان باتوں کا اظہارچیف منسٹر بسواراج بومئی نےکیا ہے۔وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کے آج شیموگہ دورے پر پہنچے تو میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاریاست میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر طرح کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ہبلی فسادات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی ۔ قصواروں کو بخشا نہیں جائیگا۔محکمہ پولیس نے اس سلسلے میں سخت کارروائی کی ہے۔ محکمہ پولیس پہلے ہی اس پر کام کر رہا ہے۔ اس سے قبل ڈی جے ہلی میں رونما ہوئی ہنگامہ آرائی کی طرح اس معاملے کو بھی سنجیدگی سے لیا گیا ہے ۔ کنٹرایکٹر سنتوش پاٹل کے خاندان کیلئے فنڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تنظیم یا ادارہ انکے لئے کچھ بھی کرے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔مزید کہا کہ اُتر پردیش اور مدھیہ پردیش کی طرز پر بولڈوزر ماڈل جیساکرناٹک میں بھی لاگو کیا جانا چاہئے ایسا کابینہ کے وزیر کہہ رہے ہیں کہ اس پر عمل کیا جائے۔ صحافی کے سوال پرکہ بولڈوزر ماڈل کیا ہے؟اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ "ہم قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ہی کام کریں گے”۔ کن کن جگہوں کی صورتحال کیا ہے اس کے مطابق ہی حکومت عمل کریگی۔ اس کے علاوہ عدالتی احکامات پر بھی عمل کیا جائیگا۔ پنچمسالی برادری کے ریزرویشن کیلئے سوامیوں کی طرف سے دی گئی آخری تاریخ ختم ہوچکی ہے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی ایم نےکہا کہ یہ معاملہ پسماندہ طبقات کےسامنے رکھا گیا ہے اوروہی اس پر مناسب فیصلہ کرینگے۔
