ہبلی تشدد اورریاست کی موجودہ حالت پرروشن بیگ نے کیا تشویش کااظہار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
ہبلی:۔شہر ہبلی میں سوشیل میڈیا پر کیے گئے ایک توہین آمیز پوسٹ کے نتیجے میں مظاہرین کے ذریعے کیے گئے فسادات کی میں پر زور مذمت کرتا ہوں۔مجھے یہ ناگوار گزرا کہ تحقیقات میں فسادیوں کی پولیس اہلکاروں کو مارنے کی کوشش کرنے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔ اس طرح کے اقدامات سے ملت اسلامیہ کی بدنامی ہوتی ہے۔اس بات کااظہار سابق ریاستی وزیر آر روشن بیگ نے کیاہے۔انہوں نے دانشوروں،ذمہ داروں ،اور بزرگوں سے گزارش کی کہ وہ نوجوانوں کو قابو میں رکھیں اور انکی مناسب رہنمائی کی ذمہ داری قبول کریں،انہیں سمجھایا جائے کہ وہ بنیاد پرستی کا سہارا نہ لیں اور کسی بھی حالت میں امن و امان کی صورتحال کو خراب نہ کریں۔ایسی حرکتوں سے وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کی زندگیاں بھی برباد کرتے ہیں۔اگر ایک مرتبہ مجرمانہ ریکارڈ بن گیا تو ان کا مستقبل پوری طرح برباد ہو جاتا ہے۔نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان کا ایمان اتنا کمزور نہیں ہوناچاہیے کہ ایک قابلِ اعتراض پوسٹ انہیں دستور کی نا فرمانی کرنے پر مجبور کر دے۔ہمیں اس طرح کا مواد ‌بنانے کے ذریعے شر پھیلانے والوں کو قانونی طریقے سے سزا کا مستحق بنانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر ہبلی میں آزادی سے پہلے سے ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد کا ماحول رہا ہے ۔ اگر ہم اس بھائی چارہ کو برقرار رکھیں گے تو ہمارے ہندو بھائی بھی اشرار کے خلاف قانونی کارروائی میں ہمارے ساتھ کھڑے رہیں گے۔جب ہزاروں لوگ پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہوکر گاڑیوں کو نذر آتش کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کا سہارا لیتے ہیں اور یہ ناخوشگوار حرکت کرتے ہوئے اللہ اکبر اور آر ایس ایس مردہ باد کے نعرے بلند کرتے ہیں تو سوچیے اس سے قوم کی کتنی بدنامی ہو تی ہے۔اس خصوص میں انہوں نے بنگلور سٹی جامع مسجد پہنچ کر علمائے کرام ،انجمنوں اور مفکرین سے درخواست کی کہ وہ اس طرح کے حالات سے متعلق امت کو بیدار کریں ،اس طرح کے حالات اگر رونما ہوں تو ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہئے اسے مرتب کریں اور جب بھی ایسے حالات ہوں قانونی ذرائع سے ان کا ازالہ کریں۔انہوں نےکہا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہبلی میں ہندو اور مسلم مذہبی رہنماؤں نے متحدہ طور پر امن کی اپیل کی ہے یہ ایک نیک علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ ملک اور ریاست میں حجاب،حلال، تجارتی بایکاٹ، اذان و لاؤڈ اسپیکر جیسے مسائل سے مسلمانوں کو کافی پریشانی ہوئی ہے اور ہمارے جذبات مجروح ہویے ہیں، مگر اسلام امن کا درس دینے والا مذہب ہے۔رمضان جیسےمقدس مہینے میں ہمیں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم بھائی چارہ اور اخوت کے ذریعے ہمارے برادران وطن کے ساتھ مل کر نفرت کو ختم کریں گے اور ساتھ ساتھ رہتے ہوئے خوشگوار اور پرامن ماحول میں نہ صرف ہم بلکہ ہماری بعد کی نسلیں بھی پر امن ماحول میں خوشگوار زندگی گذارینگے۔ سب سے اہم بات یہ کہ کسی بھی حالت میں جوش کا سہارا نہ لیتے ہوئے ہوشمندی و حکمت کا سہارا لیں گے۔ روشن بیگ نے علمائے کرام کیلئے ورک شاپ کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے بعد علماء کیلئے ورک شاپ کرے انہیں بتانا چاہیے کہ خطبۂ جمعہ کیسا ہو اور اس کے موضوعات کیا رہیں۔جس میں موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ہم آہنگی اور رواداری سے متعلق اسلامی تعلیمات کا احاطہ کیا جائے۔انہوں نے رمضان المبارک کے بعد مقامی اور ریاستی سطح پر عید ملن پروگراموں کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مٹھوں کے سوامیوں ،دیگر مذاہب کے رہنماؤں اور برادران وطن کو مدعو کیا جانا چاہئے۔اس مشترکہ پلاٹ فارم پر نان ویج کے بجائے ویج کا اہتمام کرکے اسلامی تعلیمات کو انکے سامنے پیش کرنے کے ذریعے غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے دوریوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔