کوروناکے امکانات کے باوجود طئے شدہ وقت میں اسکول کھلیں گے:وزیر تعلیم

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کوروناکی چوتھی لہرکے خدشات کے باوجود ریاست میں اسکول وکالج طے شدہ وقت میں ہی شروع کئے جائینگے، کوروناکی بنیاد پر اسکول وکالج بندکرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔اس بات کااظہار کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کیا ہے ۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ جون جولائی میں کوروناکی چوتھی لہرعروج پر آنے کے امکانات محکمہ صحت عامہ کی جانب سے ظاہرکئے گئے ہیں،باوجوداس کے16 مئی سے اسکول شروع کئے جائینگے۔کوویڈکے سلسلے میں محکمہ صحت عامہ اور کوویڈ ٹاسک فورس کی جانب سے جاری کئے جانے والے ضوابط پر عمل کرتے ہوئےاسکول وکالج شروع کئے جائینگے ،کوروناکی تیسری لہر کے دوران بھی ہم نے ضوابط پر عمل کرتے ہوئے اسکول کھلے رکھے تھے اور اسی طریقے کو دوہرایا جائیگا۔مزید انہوں نے بنگلوروکے کلارنس اسکول میں بائبل کی تعلیم کو عام کئے جانے کی بات کرناٹکا ایجوکیشن آیکٹ کی مخالفت ہے،اس سلسلے میں ہم نے نوٹس جاری کرنے کیلئے افسروں کو ہدایت دی ہے۔یہ اسکول سی بی ایس ای بورڈ کے ماتحت آنے کےباوجود کرناٹکا حکومت کے ماتحت کام کرنا ہوگا، اس وجہ سے اسکول کو نوٹس جاری کی گئی ہے،اُن کا جواب آنے کے بعد ہم سی بی ایس ای بورڈکو کارروائی کرنے کیلئے سفارش کرینگے ۔ کسی بھی اسکول میں مذہبی تعلیمات کادرس دیناغلط ہے،ایسے میں ویب سائٹ کے ذریعے بائبل سیکھنے کے عمل کو ہم سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرینگے ۔ ریاست کے دوسرے علاقوں میں بھی کیا اسی طرح کی تعلیم دی جارہی ہے،اس پر نگاہ رکھنے کیلئے افسروں کو ہدایت دی گئی ہے۔اس دوران بی سی ناگیش نے دانشوروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ جب ہم اسکولوں میں بھگود گیتاکی تعلیم دینے کی بات کرتے ہیں تو دانشوران ہماری مخالفت میں اترآتے ہیں اور ہمیں سیکولرازم کا درس دیتے ہیں،وہی دوسرے اقوام کی جانب سے اُن کے مذہبی معاملات کی تعلیم دی جاتی ہے تو خاموشی اختیارکی جاتی ہے۔