پچھلےدس دنوں میں کوروناکے معاملات میں اضافہ،شاپنگ کرنے والوں میں اثرات زیادہ

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ:۔کوروناکی روک تھام کیلئے حکومت کی جانب سے عائدکئے گئے لاک ڈائون کے باوجود مسلسل کوروناکی وارداتوں میں اضافہ ہورہاہےاور بڑے پیمانے پر مردو خواتین اس کاشکارہورہے ہیں۔اسپتالوں میں مریضوں  کاآنا اور لاشوں کاجانا عام بات ہوچکی ہے۔پچھلے دس دنوں میں اس کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ لوگ منع کرنے کے باوجود بازاروں میں شاپنگ کررہے ہیں۔بھلے ہی وہ کھلے عام نہ سہی چوری چھپے خریداری کررہے ہیں اورانہیں چھپاہوا وائرس ہی اپنا شکار بنارہاہے۔سائنس بھی اس بات کی دلیل دے رہاہے کہ کپڑوں اور پلاسٹک کی تھیلیوں پر کوروناوائرس زیادہ دیر تک زندہ رہتاہے،کیونکہ فی الوقت لاک ڈائون کی وجہ سے خریداری بند کمرے ہورہی ہےاور ہوا کی تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے کوروناکے وائرس زیادہ طاقتور یا زیادہ اثر دار ہوجاتے ہیں۔پچھلے کچھ دنوں سے جو مریض اسپتالوں میں داخل ہورہے ہیں اُن میں اکثریت خواتین کی ہے،جس سے اندازہ لگایاجارہاہے کہ یہ شاپنگ کااثرہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ کوروناکی دوسری لہر کوطاقتورکہاجارہاتھا،مگر اب اکتوبر سے تیسری لہر کو اور زیادہ خطرناک ماناجارہاہے اور اس کا اثر18 سال سے زائد عمرکے خواتین وبچوں پرپڑیگا۔ان تمام کے باوجود اب بھی مسلسل خواتین بازاروں میں دکھائی دے رہی ہیں،کچھ لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ فلاں فلاں ہندو کی دکان کھلی تھی تو آپ نے اُس کے بارے میں کچھ نہیں کہا،جب تک دکان کھولنے والے ہیں توہم لینے کیلئے بازار جائینگے ہی،پہلے دکان بند کرائیں،اس طرح کی احمقانہ باتیں کی جارہی ہیں۔سوال یہاں دکانیں کھولنے یا بند کرنے کا نہیں ہے بلکہ سوال کوروناکی وباء سے بچنے کا ہے،جس کیلئے ذہنی طور پر اپنے آپ کو تیارہوناپڑیگااور عملی طور پر دوسروں کیلئے ماڈل بننا پڑیگا۔گھروں میں زیادہ سےزیادہ قیام کیاجائے اور بلاوجہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔ہم اپنے آپ کو جتنا بھی طاقتور سمجھےلیکن وباء اُس سے کہیں زیادہ طاقتورہے۔جتنی اموات آنکھوں کے سامنے ہورہی ہیں اُن میں زیادہ30 تا45 سال کے لوگ بھی ہیں تو اندازہ لگائیے کہ یہ کتنی مہلک و خطرناک بیماری ہے۔یقیناً کورونا سے ڈرنانہیں ہے لیکن حالات سے خوف کھانا ضروری ہوگیاہے کیونکہ نہ حکومت ہماری مددکو آگے آئیگی اور نہ ہی ڈاکٹروں کے پاس اس وباء کا کوئی علاج ہے!۔