صحافی وسپاہی ،روزنامہ آج کاانقلاب کے پبلیشرسالاراحمداعجازکاانتقال

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

کورونانے لی تین دنوں میں میاں بیوی کی جان
شیموگہ:۔دنیابھرسے مختلف لوگوں کی اموات کی خبریں ہمارے سامنےآرہی ہیں۔کوروناکے جان لیواحملوں سے امیروغریب ،چھوٹا بڑاہر کوئی آسانی کے ساتھ موت کے منہ میں جارہاہے۔اسی سلسلہ وار اموات میں روزنامہ آج کاانقلاب کےسرپرست،رہنماءو پبلیشرسالاراحمداعجاز بھی انتقال کرگئے ہیں۔یوں توسالاراحمداعجاز ہندوستانی فوج میں بطور میجر خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی عمرکا بڑا حصہ گذاراتھا،لیکن جیسے ہی وہ سبکدوش ہورہے تھے اُس وقت روزنامہ آج کاانقلاب کی سرپرستی کیلئے اپنے آپ کو تیارکیا۔زندگی بھر ایک سپاہی کے طورپر جدوجہد کرنےو الے سالاراحمداعجازنےصحافی کے طور پر بھی سماج کے حالات سے لڑنے،اُردو زبان کی ترقی کیلئے ساتھ دینے،صحافت کو آگے تک لے جانےکیلئے پوری طرح سے تیارکی،مرتے دم تک اُس پر قائم رہے،سالاراحمد کا تعلق شیموگہ تعلقہ کے آئینورسے ہے اور وہ کم عمرمیں ہی ہندوستانی فوج میں شامل ہوئے،اس کے بعد ہندوستانی فوج کے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے سال2008 میں وظیفہ یاب ہوئے،اس دوران وہ کارگل کی جنگ ،سری لنکا کو ہندوستان سے بھیجے جانے والی پیس فورس سمیت مختلف معرکوں میں شامل رہےاوروششٹ سیوا میڈل اور سائنیک سیوامیڈل بھی حاصل کرچکے ہیں۔انہوں نےفوج میں رہتے ہوئے بھی دینداری وپرہیزگاری کا دامن نہیں چھوڑا اور صوم وصلاۃ کے پابندرہے۔بھدراوتی شہر میں فریدہ بیگم سے ان کا نکاح ہواتھا جو پیشہ سے معلمہ تھیں۔سکبدوشی کے بعد جیسے ہی وہ روزنامہ آج کاانقلاب سے جڑے انہوں نے بطور صحافی بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے،سماج کو درکار ضروریات کوپوراکرنے اور سماجی مسائل کو اخبارکے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کیلئے وہ روزنامہ کے ایڈیٹوریل بورڈکی رہنمائی و نگرانی کرتے رہے۔نوجوانوں کو فوج میں شامل کروانےاور دیگر سرکاری عہدوں میں نوکریاں حاصل کروانے کیلئے رہنمائی کرتے رہے اور روزنامہ میں ان خبروں کو اجاگرکرنے کی کوششیں کرتے رہے ،وہ ایک سپاہی اور صحافی ہونے کے ساتھ مہذب،سلیقہ شعارانسان بھی تھے،اپنے فوجی ڈسلپین پر نہ صرف خود عمل کرتے تھےبلکہ دوسروں کو بھی وقت کی پابندی کیلئے ڈسپلین پر چلنے کی ترغیب دیتے۔سالاراحمداعجازیوں تو اخبارکے صفحات پر کم ہی نظرآتے تھے،لیکن روزنامہ آج کاانقلاب کی نگرانی میں پچھلے دس سالوں سے کام کرتارہاہے۔محض پچھلے دس دنوں سے وہ کورونا کے مرض میں مبتلاء تھے،ابتداء میں بخار کو انہوں نے معمولی بخارمانا،بعدازاں جب اس بخار کا شکارگھر کے دیگر افراد ہونے لگے تو انہوں نےفوراً طبی معائنہ کروایا،جس میں انہیں کورونا پازیٹیو بتایاگیا۔ان کی بیوی فریدہ بیگم ،میر معلمہ گورنمنٹ اردو ہائر پرائمر ی اسکول جمبر گھٹہ بھدراوتی تعلقہ کو بھی کورونا کی علامتیں بڑھنے لگی تو سالاراحمد اعجازاور فریدہ بیگم علاج کی خاطرشہرکی ایک نجی اسپتال میں علاج کیلئے داخل ہوئے۔بتاریخ29 اپریل کوداخلہ لینے والے دونوں کی طبیعت تیزی کے ساتھ بگڑنے لگی اور 2مئی کو اس دارِفانی کوچ کرگئی تھیں۔اسی درمیان سالارصاحب کی طبیعت بھی مزید بگڑنے لگی اور وہ آج یعنی5/مئی کی صبح3 بجے زبان پرکلمہ طیبہ اور درودِپاک کاورد کرتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔جس سپاہی نے میدان جنگ میں شہادت کی تمنا کی تھی،وہ بعدمیں صحافی بن کر وباء کی لپیٹ میں شہادت حاصل کی،اوراپنی زندگی کامقصدپوراکیا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ سالاراحمد اعجاز اور ان کی بیوی فریدہ بیگم توآسانی سےاور بڑے ہی اچھے اندازمیں خالق کائنات سے جا ملے،مگر ان کی اولادکو یتیم کرتے ہوئے سماج کے درمیان خدمت کا بڑا خلاء پیدا کرگئے ہیں۔فریدہ بیگم کی تجہیز وتدفین2مئی اور سالاراحمداعجازکی تدفین آج یعنی5مئی کو بھدراوتی کے نیوٹائون قبرستان میں انجام دی گئی ۔قارئین سے گذارش کی گئی ہے کہ وہ سالاراحمد صاحب اور ان کی اہلیہ فریدہ بیگم کی مغفرت کیلئے دعاکریں۔سالاراحمدصاحب کے سالے بھی اس مرض میں فوت ہوئے ہیں اُن کیلئے بھی دعاکریں۔روزنامہ آج کاانقلاب آج حقیقت میں اپنے ایک ستون کو کھوچکاہےاور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتاہے کہ وہ ان مرحومین کی مغفرت فرمائے،ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائےاورجلد ازجلد اس وباء کاخاتمہ فرمائے۔آمین۔