آم ابھی عام لوگوں کیلئے عام نہیں ہوئے،کم پیداوار کی وجہ سےقیمتوں میں اضافہ

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:۔کرناٹک میں آم کی پیداوارکیلئے شیموگہ ضلع بھی اپنا الگ مقام رکھتاہے،لیکن آم ابھی تک عام لوگوں کیلئے عام نہیں ہوئے ہیں۔اس کی اہم وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس دفعہ آم کی پیداوارمیں کافی کمی آئی ہے اور دیگر ریاستوں میں آم کی مانگ زیادہ ہے۔مقامی سطح پر آم کی فروخت میں نہایت کمی بتائی گئی ہے۔شیموگہ سے آم کو مہاراشٹرکے ممبئی،پونہ اور سانگلی جیسے علاقوں کو روانہ کیاجاتاہے،جو پیداوار یہاں ہوئی ہے وہ بیرونی علاقوں کو بھی بھیجنے کیلئے ناکافی بتائی جارہی ہے۔اس وقت آم کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے۔بادام آم کو180 تا 200 روپئے میں فروخت کیاجارہاہے،رسپوری آم کی قیمت 100سے125 روپئے فی کلوفروخت کیاجارہاہے جبکہ ملیکہ آم کی قیمت100 تا150 روپئے فی کلو ہے۔شیموگہ کے شکاری پور،ہوسنگر،ریپن پیٹ جیسے علاقوں میں آم کے باغات ہیں،یہاں سے سالانہ ہزاروں ٹن آم بیرونی علاقوں کو روانہ کیاجاتاتھا۔پچھلے سال سے جو موسمی تبدیلی ہوئی ہے اس تبدیلی کی وجہ سے آم کی پیداوارمیں کمی آئی ہے۔ مقامی تاجر محمد سمیع اللہ کاکہناہے کہ پچھلےسال کے مقابلے میں امسال آم کی فصل کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مہنگے داموں میں آم خریدناپڑرہاہے اور امسال آم کا سیزن زیادہ دن بھی نہیں رہے گا۔