بھدراوتی کائونسل انتخابات ؛ جیتنے سے زیادہ ہرانے کے لئے میدان میں اترے ہیں امیدوار

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ : بھدراوتی میونسپل کائونسل کے لئے تیاریاں شباب پر ہیں اور یہاں مسلم اکثریتی علاقوں میں امیدوار جیتنے سے زیادہ ہرانے کے لئے میدان میں اترے ہیں اور انہیں حلقوں میں کئی امیدواروں نے بالکل ان بچوں کے جیسا الیکشن سمجھ رکھا ہے جو عید کی خوشیاں منانے کے لئے نئے کپڑے تو پہن لیتے ہیں لیکن عیدکا مقصد ، اہمیت اور فضیلت سے ناواقف رہتے ہیں ۔ ایک طرف کچھ لوگ دوسروں کو ہرانے کے لئے میدان میں اترے ہیں تو کچھ امیدوار جذباتی باتوں کی بنیادپر الیکشن کرنے نکلے ہیں جبکہ جذبات کی بنیادوں پر پہلے ہی قوم کو بہت نقصان پہنچ چکاہے ۔ شیموگہ کی طرح ہی بھدرواتی میں بھی کانگریس کو اس بار نقصان اٹھانا پڑسکتاہے کیونکہ کانگریس میں ٹکٹوں کے بٹوارے کو لے کر جس طرح سے گروہ بندی اور من مانیا ں دیکھی گئی ہیں وہ شاید ہی کبھی ماضی میں دیکھنے کو ملی ہیں ۔ کئی سینیرکانگریسیوں کا الزام ہے کہ جو لوگ پارٹی کی پرائمری ممبر شپ تک نہیں رکھتے ان لوگوں کو بھی پارٹی نے ٹکٹ دے رکھا ہے اور جو لوگ برسوں سے پارٹی کے لئے اپنے کپڑے پھاڑچکے ہیں انہیں اب کونے میں بٹھا دیا گیاہے اس لحاظ سے کانگریس پارٹی کے امیدواروں اور ٹکٹ سے محروم ہونے والے کارکنوں کے درمیان اختلافات گرما گئے ہیں ۔ وہیں کچھ وارڈس میں مسلمان امیدواروں کی تعداد ایک ایک درجن تک پہنچ گئی ہے یا کم ازکم آدھا درجن تک پہنچ گئی ہے ایسے میں مسلم امیدواروں کا جیتنا مشکل ہوچکا ہے اور بی جے پی کا جیتنا کم و بیش ابھی سے طئے ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پوری قوم میں الیکشن سے چار مہینوں پہلے تک اتحاد و اتفاق ، اختلافات کو بھلانے کی بات ، سیکولرزم کی مضبوط بنیاد اور فرقہ پرستوں کو مات دینے کی بات کی جاتی ہے لیکن جیسے ہی الیکشن کا بگل بجتاہے تو نہ جانے کہا ں کہاں سے آستین کے سانپ نکل آتے ہیں کسی کو اندازہ نہیں ہوتا۔ اب بھدراوتی میں بھی یہی حالات پیداہوئے ہیں ، اگر واقعی میں بھدراوتی کے مسلمان اپنے مستقبل کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اپنے سیاسی مستقبل کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو وہ اس چھوٹے الیکشن میں متحد ہوکر فیصلہ کریں اور جو لوگ کچھ مخصوص پارٹیوں کو سیکولر کہہ کر اپنے آپ کو قربان کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ کون جئے شری رام کہہ رہاہے اور کون رام مند رکا رٹ لگائے ہوئے ہے ۔ یہاں کانگریس ، جے ڈی یس اور بی جے پی کی شکل کا سوال نہیں ہے بلکہ سوال ان لوگوں کی ایمانداری کا ہے جو آپ کے دکھ درد میں کام آتے ہیں اور جو آپ کے درمیان رہ کر کام کرتے ہیں ۔