دہلی: ملک میں آبادی میں اضافے کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے پانچویں دور کی رپورٹ کے مطابق ملک میں شرح پیدائش 2.2 سے کم ہو کر 2.0 پر آگئی ہے۔ یہ آبادی کنٹرول کے اقدامات میں نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ قومی سطح پر4 نیشنل فیملی ہیلتھ سروے اور 5 کے درمیان TFR، جسے فی عورت بچوں کی اوسط تعداد کے طور پر ماپا جاتا ہے، 2.2 سے 2.0 تک کم ہو گیا ہے۔ صرف پانچ ریاستیں ہیں جہاں شرح پیدائش قومی اوسط سے زیادہ ہےجس میں بہار (2.98)، میگھالیہ (2.91)، اتر پردیش (2.35)، جھارکھنڈ (2.26) اور منی پور (2.17) ہیں۔ملک کی 28 ریاستوں اور آٹھ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 707 اضلاع (مارچ 2017 تک) سے تقریباً 6.37 لاکھ خاندانوں کے نمونے لیے گئے۔ اس میں 724115 خواتین اور 101839 مرد شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی مانع حمل کی شرح (سی پی آر) میں 54 فیصد سے 67 فیصد تک نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق مانع حمل کے جدید طریقوں کے استعمال میں تقریباً تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی ادھوری ضروریات میں 13 فیصد سے نو فیصد تک نمایاں کمی آئی ہے۔سروے کے مطابق ملک میں 18 سے 29 سال کی عمر کی 25 فیصد خواتین اور 21 سے 29 سال کی عمر کے 15 فیصد مردوں کی قانونی عمر سے پہلے ہی شادی ہو جاتی ہے۔ شادی کی قانونی عمر خواتین کے لیے 18 سال اور مردوں کے لیے 21 سال ہے۔ تاہم حکومت اب دونوں کی عمریں 21 سال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
