شیموگہ: شیموگہ ڈپٹی کمشنر دفتر کی عمارت میں موجودتعمیراتی سنٹر (نرمتی کیندر ا)کےناگراج کے خلاف کانگریس کے ضلع صدر ایچ ایس سندریش نے بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔انہوں نے پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سالوں سے ناگراج تعمیری مرکز میں ہیں۔ اس تعمیراتی مرکز سے تعمیر ہونے والی عمارتیں سرکاری اور نجی اشتراک انجام دینے کا اصول رکھتی ہے،لیکن جو عمارتیں تعمیراتی مرکز سے بنی ہیں انہیں تعمیراتی مرکز کے طور ہی پر دکھایا گیا ہے۔ یہاں عمارت بنانے کیلئے کوئی مشنری استعمال نہیں ہوتی ہے۔لیکن تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئے 35/40پرسنٹ کے حساب سے کاموں کو انجام دینے کا الزام لگایا۔سندریش کا یہ بھی الزام ہے کہ اے پی ایم سی میں بھی کرپشن زور وںپر جاری ہے۔ حکومت کاروباری معاملوںمیں بھی بدعنوانی کررہی ہے۔ شیموگہ کےاے پی ایم سی کمرشیل سنٹر میں دکانوں کی تعمیر کا ٹینڈر، تعمیری کاموں کیلئے افزود رقم کی منظوری کرتے ہوئے بدعنوانی میں ملوث ہے۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شیموگہ کے ساگر روڈ پر واقع اے پی ایم سی میں دکانوں کی تعمیر کیلئے 10 کروڑ کی مالیت مختص کی گئی تھی۔ابھی 10 فٹ کی عمارت بھی کھڑی نہیں ہوئی ہے کہ 2 کروڑ روپئے ورک شپ جاری ہوا ہے۔ اس معاملے میں اے پی ایم سی کے عہدیداروجئے کمار اور پرساد شامل ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ان کے خلاف جدوجہد کریگی۔ساگر مین روڈ پر 31 تجارتی چھوٹی دکانوںکیلئے 3.50 کروڑ کی لاگت کا کام کرنا تھا ، لیکن اسکے لئے 75 لاکھ روپے افزود جاری کئے جارہےہیں۔ تیرتھ ہلی میں اے پی ایم سی میں 10 کروڑ کی لاگت پرکمرشیل شاپ کے تعمیری کام جاری ہے اورہر ایک کام کیلئے ورک شپ کے طور پر1 کروڑ روپئے جاری ہوئے ہیں۔ یہ کام گلبرگہ کے ٹھیکیدار کو دیا گیا ہے۔ اس کیلئےاے پی ایم سی بنگلور ایس ای مونبے کا دورہ بھی ہوا اور اسے منظوری بھی دی گئی ہے۔سندریش نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی ڈپٹی کمشنر کواس میں مداخلت کرتے ہوئے کاموں کو بند کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر محکمے میں کرپشن لیا جارہاہے اس کے خلاف اے سی بی سے شکایت کرنے کی بات کہی ہے۔
