فجر کی اذان بغیر لاؤڈ اسپیکر کے دیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے: امیر شریعت مولانا صغیر احمد 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی طرف سے جو اعلان ہوا ہے اس سلسلہ میں تبادلہ خیال کرنے کیلئے امیر شریعت مولانا صغیر احمد خان کی صدارت میں اجلاس منعقدہوا جس کے بعد امیر شریعت نے ریاست کی تمام مساجد کے ذمہ داروں کو ہدایت دی کہ فجر کی اذان بغیر لاؤڈ اسپیکر کے دیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عدالت کے فیصلہ کے مطابق رات 10بجے سے صبح6بجے تک لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال مکمل طور پر منع کردیا ہے، صرف مساجد ہی نہیں بلکہ تمام عبادت گاہوں کے علاوہ عوامی جلسوں اور دیگر تقریبات کیلئے بھی رات کے وقت لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال ممنوع ہے – البتہ دن کے بقیہ اوقات میں لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کیلئے حکومت سے اجازت لینے، حکومت کی طرف سے شہری علاقوں میں اے سی پی، ایگزی کیٹیوانجینئر اور محکمہ آلودگی کے افسر پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ایگزی کیٹو انجینئر اور محکمہ آلودگی کے افسر پر مشتمل کمیٹی بنی ہے اس لئے مساجد کے ذمہ دارفوری اے سی پی یا ڈی وائی ایس پی کے دفاتر میں مقرر ہ فارم کی شکل میں درخواست دیں – اس کیلئے صرف درخواست دینے والے فرد کے آدھار نمبر اور اس جگہ کاپتہ جہاں لاؤڈ اسپیکرکا استعمال ہو گا طلب کیا گیا ہے اس کو کافی آسان رکھا گیا ہے اس لئے جلد ہی اس فارم کو جمع کرنے کے بعد اس کا تصدیق نامہ حاصل کرلیں – جس وقت حکومت کی طرف سے باضابطہ لائسنس جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہو گا اس وقت کیا ہو گا تب دیکھا جائے گا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے کہا کہ ان کے حلقہ چامراج پیٹ کے علاوہ ان سے متصل حلقوں گووند راج نگر اور وجے نگر حلقوں میں آنے والی تمام مساجد، مندروں اور چرچوں کے ذمہ داروں کا ایک اجلاس انہوں نے طلب کیا ہے تاکہ تمام کو ان کی نگرانی میں ہی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت کیلئے درخواست اے سی پی تک پہنچائی جا سکے۔اس کے علاوہ ریاست بھر میں بھی اراکین اسمبلی اور دیگر کانگریس رہنما مساجد، مندروں اور چرچو ں کے ذمہ داروں کو اس سلسلہ میں رہنما ئی کرنے کیلئے تیار ہیں – انہوں نے کہا کہ علماء، قائدین او ر عمائدین کے اجلاس میں جو فیصلہ لیا گیا ہے اس پر پوری ریاست میں عمل یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پرمفتی افتخار احمدقاسمی، مولانا مقصود عمران رشادی، مولانا اعجاز احمد ندوی، مولانا شفیع سعدی، چیرمین، وقف بورڈ، اراکین اسمبلی این اے حارث، رضوان ارشد، رحیم خان،رکن کونسل نصیر احمد،کے پی سی سی اقلیتی شعبہ کے چیرمین عبدالجبار، وقف بورڈ ممبر ریاض خان، وکلاء اکمل رضوی، ذبیح اللہ وغیرہ موجود تھے۔