ضرورت مندوں میں راشن کٹ کی تقسیم:  سستا پیکیج ، سستی شہرت ؛ ضرورتمند اداس 

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :۔ کورونا لاک ڈائون کے بعد بھی کئی لوگ روزگار نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں ایسے میں کچھ فلاحی و سماجی خدمات انجام دینے والے ادارے ان ضرورتمندوں کو راشن کٹ تقسیم کررہے ہیں اور انکی پریشانی کو کچھ ہفتے اور مہینے تک کم کرنے کے لئے فکر مند ہیں ۔ مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ضرورتمندوں کی ضرورت تو پوری کررہے ہیںاور انہیں راشن کٹ بھی تقسیم کررہے ہیں مگر ان راشن کٹس میں جو روزمرہ کا سامان ہے وہ پانچ سو روپئے سے بھی زیادہ کا نہیں ہے اور یہ لوگ سستے راشن کٹس تقیسم کرتے ہوئے سستی شہرت بٹورنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ در حقیقت راشن کٹ دینے کا مقصد ہی کسی کی ضرورت کو پورا کرنا ہے اور اگر یہ ضرورت ایک یا دو دنوں کے لئے ہوتو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور تیسرے دن ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مستحق افراد کو پھر سے جدو جہد کرنی ہوتی ہے ، سستی شہر ت کے دلدادہ لوگ جب اپنی جانب سےسستا راشن دیکر سوشیل میڈیامیں اپنا نام کرجاتے ہیں تو ایک اور مسئلہ بھی پیدا ہوتاہے کہ جو دوسرے لوگ واقعی میں ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ انہیں راشن مل گیا ہے تو اور کیوں اسی محلے میں یا حلقے میں راشن دیا جائے ؟۔ جب کسی کی مدد کی جارہی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ تنظیمیں اور ادارے جم کر خدمت خلق کے لئے آگے آئیں اورکچھ مدد کی جارہی ہو تو وہ مدد اطمینان بخش ہونہ کہ نام کے لئے دی جائے ۔ مختلف تنظیموں میں یہ رحجان پیدا ہوچکا ہے کہ وہ صرف تصویر کی حد تک ہی راشن کٹس تقسیم کرتے ہیں بعد میں پوری سرگرمی کو نظر انداز کردیتے ہیں اور کئی تنظیموں کی طرف سے حقیقی مستحق افراد کی نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی محلے میں کئی کئی دفعہ مدد پہنچائی جاتی ہے جس سے وہاں پر مدد کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے ۔