بنگلور:مجاہدِ آزادی بھگت سنگھ کے سبق کو ترک کرنے کےریاستی حکومت کے فیصلے کی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے شدیدمذمت کی ہے۔ مجاہد ہ آزادی بھگت سنگھ کے بارے میں 10 ویں جماعت (کنڑا عنوان5 یونٹ) میں موجود سبق کو ترک کرکے اس جگہ پر راشٹریا سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس )کےبانی کے بی ہیگڑے وار کی تقریر کو سبق میں شامل کیا گیا ہے۔ جس کے خلاف ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حسین نے ریاستی حکومت پر محب وطن بھگت سنگھ کی توہین کا الزام لگایاہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ بھگت سنگھ پر سبق ترک کرکے،زعفرانی ایجنڈے کو پورا کرنے کے مقصد سےہیگڑے وار کانثری سبق کو اپنایاگیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت تعلیمی نظام کوبھی زعفرانی کرنے جا رہی ہے ۔ایک محبِ وطن جس نے اس ملک کیلئے اپنی جان قربان کردی تھی ایسے بھگت سنگھ کا نام سبق سے ہٹاکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ پہنچانے والے ذہنیت کے حامل آرایس ایس کے بانی ہیگڑے وار کا سبق نصب کرتے ہوئےحکومت بچوں کو کیا پیغام دینے جا رہی ہےیہ واضح نہیں ہورہا ہے۔کہتے ہوئے غیر اطمینانی کا اظہار کیا۔ ہندوستان جو ایک سیکولر، کثیر ثقافتی، متحد اور خودمختار ملک ہے۔ لیکن بی جے پی حکومت یہ سب بھول کر ہندوستان کواب ایک ہندوراشٹر کی تیاری اور نفاذ میں سرگرم نظرآرہی ہے۔ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں اورہورہے ہیں جس سے واضح ہورہا ہے کہ ملک کو ہندوراشٹر بنانے کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ آر ایس ایس کے لیڈروں کے سبق کو نافذ کرنا اسی مقصد کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلےنصابی کتابوںکی تخلیقی کمیٹی کے چیئرمین کا اس سبق کوانتخاب کرنا غلط اورنامناسب فیصلہ ہے۔ ماضی میں سیکولراور ہم خیال لوگوں کو یہ عہدہ دیا جاتا تھا۔ لیکن جب سےبی جے پی حکومت کے لیڈروں کو یہ حق دیا گیا ہے تو ان سےاور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔10ویں کلاس میں آر ایس ایس کے بانی ہیگڑےوار کا سبق شامل کرنےکے متعلق ٹمکور میں وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے اس موضوع پر اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تقریر کے نصب کے بارے میں مجھے مکمل معلومات نہیں ہے۔ تقریری متن میں ہم نے ہیگڑے وار کی تقریر کی صرف فوٹیج شامل کی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اسباق سےبھگت سنگھ کی عبارت کو نہیں چھوڑا گیا۔ ہم نے ٹیکسٹ بک تخلیقی کمیٹی کو مکمل آزادی دی ہے۔ کیا ہونا چاہئےاور کیا نہیں ہونا چاہیے،تحقیق کی گئی ہے ۔ ماہرین تعلیم سےنصابی کتابوں کو منظرعام پر لانے کا کام ہوا ہے۔افواہوں کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ کتاب میں بچوں کوجو بات نہیں بتانی چاہئے وہ نہیں بتائی گئی ہے اس بات کا ہمیں یقین ہے ۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے خبردارکیا ہے کہ اگر ماضی کے اسباق کو جاری نہیں رکھا جاتا ہے توریاست گیر جدوجہد کی جائے گی۔ہتھیاروں سے تربیت یافتہ ہندو طلباءکیلئےویلفیئر پارٹی نےاعتراض ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ہندواگر متحد ہوں گے تو مذہب کی بقاء اور اتحادبنارہےگا ، لیکن بجائےا سکے ہاتھوں میںچھری اور چاقودی جائے تو بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟اشتعال انگیز تقریر کرکے بچوں کا دماغ خراب کیا جاتا ہے اور یہی بچے تقریریں سن کردیگر قوموں پر چھری چلانے کا کام کرتے ہیں۔ ذاتی نفرت بھی جنم لیتی ہے۔ دو مذاہب کے درمیان کشمکش اورتصادم رہتاہے۔ مذہب ۔ مذہب کے درمیان زہر کا بیج پھولنے لگتا ہے ۔ کیا یہ سب ٹھیک ہے؟ بجرنگ دل سے پُرتشدد ترقی؟ مذہب کو بچانے کا مطلب دوسروں کو ختم کرناہے؟۔
