بنگلور : پچھلے سال ریاست میں پی یو کالج کے زمرے میں حجاب کے سلسلے میں جو جد و جہدشروع ہوئی تھی اس جدو جہد میں سینکڑوں طالبات نے اپنا مستقبل دائو پر لگاتے ہوئے حجاب کی مخالفت کرنے والے تعلیمی اداروں ، حکومت اور فرقہ پرستوں کے خلا ف قربانیاں پیش کی تھی اور اس وقت قوم مسلم کی لڑکیوں نے حجاب پہننے کے حق کو منوانے کے لئے نہ صرف سڑکوں پر اتر کر احتجاجات کئے تھے بلکہ قانونی لڑائیاں بھی لڑرہی ہیں ، اس دفعہ یس یس یل سی کے نتائج آچکے ہیں ایسے میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ کیا مسلمان محض 3 مہینے پرانی جد و جہد کو بھلاکر غیر مسلم تعلیمی اداروں کا رخ کرینگے اور مسلم بچیوں کی قربانیوں کو ضائع کرینگی ۔ پچھلے سال ریاست کے 90 فیصد تعلیمی اداروں نے فرقہ پرستوں کا ساتھ دیتے ہوئے مسلم لڑکیوں کو نہ صرف بےحجاب کردیا بلکہ مسلم لڑکیوں پر اذیتوں کے پہاڑ بھی توڑے تھے ۔ لیکن اس سال ان تعلیمی اداروں کو سبق سکھانے کا مناسب موقع رہنے کے باوجود مسلمانوں کا بڑا حصہ اپنے بچوں کو غیر مسلم تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوانے کے لئے بیتاب نظر آرہاہے ،پچھلے سال دھول چاٹنے کے باوجود امسال پھر وہی غلطیاں دہرانے کی تیاریاں ہورہی ہیں ۔ ریاست کے کئی علاقوں میں حالات کے مدنظر مسلم تعلیمی ادارے مسلم طلباء کو تعلیم کے ساتھ ساتھ انکے مذہب کی پاسداری کرنے کا موقع بھی فراہم کررہے ہیں لیکن ایسا محسوس کیا جارہاہے کہ مسلما ن اب بھی ہوش میں نہیں آئے ہیں ۔ کئی والدین کا خیال ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں انکے بچوں کا مستقبل نہیں سنورتا اور وہاں تعلیم کے معقول انتظامات نہیں ہیں جبکہ مسلم تعلیمی اداروں کا دعویٰ ہے کہ ہمارے یہاں بھی محدود وسائل کے باوجود اچھی تعلیم کا انتظام ہے اور تعلیم کو اولین ترجیح دی جاتی ہے لیکن یہ مسلمانوں کے بڑے طبقے کی غلط سوچ ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں اچھی تعلیم نہیں دی جاتی ہے ۔ آج حجاب ، برقعہ ، ٹوپی اور نماز جیسے مدعوں کو لے کر غیر مسلم تعلیمی ادارے جب مسلمانوں کا استحصال کررہے ہیں تو آخر کیوں کر مسلمان اپنے بچوں کو ان تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوانے کی جد و جہد میں ہیں ؟جبکہ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ امسال وہ غیر مسلم تعلیمی اداروں سے دو ر ہوکر اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے مسلم تعلیمی اداروں کو ترجیح دیتے اور اگر کسی صورت میں مسلم تعلیمی اداروں کی دستیابی نہ ہوتو غیر مسلم تعلیمی اداروں میں حجاب اور مسلم روایات کو بحال رکھنے کے لئے شر طیں رکھ کر داخلے لیں ۔ پچھلے سال احتجاجات کے دوران کئی والدین کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ اگر ہمارے تعلیمی ادارے ہوتے تو ایسے حالات پیدا نہ ہوتے جبکہ مسلمانوں کے اپنے ادارے ہونے کے باوجود مسلمان انہیں اہمیت نہیں دے رہے ہیں جس کا خمیازہ خود مسلمانوں کو اٹھانا پڑرہاہے ۔ اگر اب بھی مسلمان نہ سمجھیں گے تو آگے بڑی مشکل ہے اور یہ مشکلات نسلوں تک جاری رہیں گی ۔
