شیموگہ:۔پچھلے دو دنوں سے شہرمیں ہوئی بارش کا جائزہ لینے کیلئے جہاں رولنگ پارٹی بی جے پی جائزے کے نام پر لوٹ مچارکھی رہے وہیں کانگریس ودیگر سیاسی جماعتیں فوٹو شوٹ کرنے میں مگن ہیں۔شیموگہ شہرمیں اس دفعہ بے موسمی برسات کی وجہ سے مختلف علاقوں میں جوبارش نقصان پہنچائی ہوئی ہے اُن نقصان اٹھانے والوں کو شائد ہی فائدہ پہنچے گا،کیونکہ ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھاجائےتو حکومتوں کی جانب سے نہ کہ برابر امداد پہنچائی گئی ہے،جن کے گھرٹوٹے ہوئے تھے اُنہیں پانچ دس ہزار روپئے دیکر معاملات کو رفع دفع کروایاگیاتھااور یہ پیسے یوں ہی نہیں ملتے بلکہ ان پیسوں کوحاصل کرنے کیلئے چپل گھیسنے پڑتے ہیں ،وہیں دوسری جانب کانگریس سمیت کئی سیاسی پارٹیوں نے بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیاہے،ان دوروں کے ذریعے سے مسائل کاحل تو نہیں نکلے گا،البتہ فوٹو شوٹ ضرورہورہاہے،جو سوشیل میڈیامیں دھویں دار طریقے سے شیئر ہورہے ہیں۔اصل میں جومالی امداد متاثرین کو پہنچانی ہے، وہ امداد نہ رولنگ پارٹیاں پہنچاتی ہیں نہ ہی دیگر سیاسی جماعتیں اس سلسلے میں پیش رفت کرتی ہیں۔تین سال قبل شیموگہ شہرمیں سیلاب کی وجہ سے جو نقصانات ہوئے تھے،اُن نقصانات کی بھرپائی ضلع انتظامیہ کی جانب سے مکمل طو رپر نہیں ہوئی تھی،مگر کانگریس پارٹی کےاُس وقت تک کے ریاستی صدر دنیش گنڈو رائونے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کوایک ایک بریڈ کی پیاکٹ تقسیم کیاتھا،جس سے نہ ضرورت پوری ہوئی نہ ہی متاثروں کا درد کم ہواہے،اس باربھی وہی حالات دیکھنے کومل رہے ہیں۔عوام جائزہ نہیں بلکہ عملی کام چاہتی ہے،جو شائد کسی سیاسی پارٹی کی طرف سےکیاجارہاہے۔وہیں بے موسمی بارش میں برساتی مینڈکوں کی طرح کچھ سیاستدان اُبھر کرآئے ہیں،جواس بارش میں سیاسی ٹرٹراہٹ کرتے ہوئے اگلے کارپوریشن انتخابات کیلئے جھنڈے پکڑکرگھوم رہے ہیں۔
