اگر مدرسہ کوجانے والابچہ ذہین ہے تو یہ اس کی ہندو وراثت کی وجہ سے ہے: ہمنتابسوا شرما

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نےایک تقریب میں کہا کہ جو بھی مدارس کو بند کرتا ہے اور یکساں سول کوڈ کی بات کرتا ہے وہ درحقیقت ہندوستانی مسلمانوں کا دوست ہے۔انہوں نے چھوٹے بچوں کے لیے مدرسے کی تعلیم کی مخالفت کی اور کہا کہ کسی بھی مذہبی ادارے میں داخلہ اس عمر میں ہونا چاہیے جس میں وہ  اپنے فیصلے خود کر سکے۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہفتہ وار ‘پانچ جنیہ’ اور ‘آرگنائزر’ کی ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ بچے مدرسہ جانے کو تیار نہیں ہوں گے اگر انہیں بتایا جائے کہ وہ وہاں پڑھ کر ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن پائیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچوں کو ایسے مذہبی اسکولوں میں داخلہ دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔شرما نے کہا، مدرسہ لفظ ہی نہیں ہونا چاہیے۔ جب تک یہ مدرسہ ذہن میں گھومتا رہے گا، بچے کبھی ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتے۔ اگر آپ کسی بچے کو مدرسہ میں داخلہ کرواتے وقت پوچھیں تو کوئی بچہ تیار نہیں ہوگا۔ بچوں کو ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرکے مدارس میں داخل کرایا جاتا ہے۔پروگرام کے بعد شرما نے اپنے تبصرے کی وضاحت کی کہ مدارس میں تعلیمی نظام ایسا ہونا چاہیے کہ وہ طلبہ کو مستقبل میں کچھ بھی کرنے کا اختیار دے سکیں۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ،کسی بھی مذہبی ادارے میں داخلہ اس عمر میں ہونا چاہیے جس میں وہ اپنے فیصلے خود لے سکیں۔شرما نے بعد میں ٹوئٹ کیا، میں ہمیشہ ایسے مدرسوں کے نہیں ہونے کی وکالت کرتا ہوں جہاں رسمی تعلیم پر مذہبی جھکاؤ کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ہر بچے کو سائنس، ریاضی اور جدید تعلیم کے دیگر مضامین سے روشناس کرایا جائے گا۔شرما نے پروگرام میں کہا کہ ہر بچہ رسمی تعلیم پانے کا حقدار ہے۔ آسام میں ریاستی حکومت کی مالی مددسے چلنے والے مدارس کو بند کرنے کا قدم اٹھانے والے شرما نے کہا کہ اگر ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیم میں ترقی کرنی ہے تو ‘مدرسہ’ لفظ ہی معدوم ہو جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، آپ چاہیں تو گھر میں گھنٹوں قرآن پڑھا سکتے ہیں، لیکن اسکول میں بچے کو سائنس اور ریاضی پڑھائے جانے کا حق ہے۔ ہر بچے کو سائنس، ریاضی اور جدید تعلیم کے دیگر مضامین سے روشناس کرایا جائے گا۔شرما نے یہ تبصرہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا کہ مدارس کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے، تاکہ وہاں سے مزید پیشہ ور افراد نکل سکیں۔جب یہ ذکر کیا گیا کہ مدارس میں جانے والے طلبہ ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ قرآن حفظ کرتے ہیں،تو شرما نے کہاکہ اگر مدرسہ جانے والا بچہ ذہین ہے، تو یہ اس کی ہندو وراثت کی وجہ سے ہے۔ ایک زمانے میں تمام مسلمان ہندو تھے۔ کوئی مسلمان بن کرادھر نہیں آیا، ہندوستان کی سرزمین میں سب ہندو تھے۔ اس لیے اگر کوئی مسلمان بچہ بہت باصلاحیت ہے تو میں اس کا سہرا اس ہندو ماضی کو دوں گا۔شرما نے کہا کہ آسام میں 36 فیصد مسلم آبادی ہے، جسے تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: مقامی مسلمان، جن کی ثقافت ہماری جیسی ہے، مذہب بدلنے والےمسلمان – ہم انہیں دیسی مسلمان کہتے ہیں، ان کے گھر آنگن میں ابھی بھی تلسی کا پودا ہوتاہے، ان کے یہاں کی عورتیں ہمارے رسم و رواج کو مانتی ہیں اور ان کے علاوہ وہ ہیں جو 1971 سے پہلے یا بعد میں آکر آباد ہوئے۔ یہ مسلمان جو اپنے آپ کو میاں مسلمان بتاتے ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، شرما نے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مدارس کو بند کرنا اور یکساں سول کوڈ کا نفاذ مسلمانوں کے مفاد میں ہوگا۔انہوں نے کہا،ہمیں ہندوتوا کے لیے ایسانہیں کرنا ہے۔ جو لوگ مدارس کو بند کرتے ہیں اور یکساں سول کوڈ نافذ کرتے ہیں، ہندوستانی مسلمان  انہیں اپنا دوست اور اویسی کو اپنا دشمن کہیں۔