الیکشن کے مینڈک

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از قلم : مدثر احمد شیموگہ۔9986437327
ایک دن مُلّا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔بے حد کوشش کی، مگر گدھا جوں کا توں تھا اور مسلسل بَضد تھا کہ نیچے ہر گز نہیں اترنا۔آخر کار مُلّا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ شاید گدھا خود نیچے اتر آئے،تھوڑی دیر گزری تو مُلّا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔مُلا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے نہ اتنی مضبوط ہے نہ اس کی مُتحمّل ہے کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے مُلّا دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں محو تھا مُلا آخری کوشش کرتے ہوئے اُسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے زور دار مُلّا کو لات ماری اور مُلا نیچے گر گئے اور پھر چھت کو توڑنے لگا۔ بالآخر چھت ٹوٹ گئی اور گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا۔مُلّا کافی دیر تک اس واقعہ پر غور کرتے رہے اور اس سے تین سبق اخذ کئے۔اول: کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہئیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے۔دوسرا: خود اس مقام کو بھی تباہ و برباد کر دیتا ہے جس کا وہ اہل نہیں۔اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہی حال آج مسلمانوں کا ہے جو بغیر سوچے سمجھے ، مستقبل کے بارے میں فیصلہ لئے اور بڑے فیصلے لینے سے پہلے بغیر مشور ہ کئے کسی کو بھی اپنا لیڈر بنالیتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمان اکثر دھو کہ کھاجاتےہیں ۔ کانگریس پارٹی کی ہی بات لیں کس طرح سے مسلمان اس پارٹی پر آنکھ بند کرتے ہوئے بھروسہ کیا کرتے تھے اور اس کے ہر لیڈرکو سیکولر اور مسلمانوں کا ہمدرد مانتے تھے لیکن آج کیا ہورہاہے ۔ پارٹی کانگریس کی ہوتی ہے ، جیت مسلمانوں کے ووٹوں سے اور پھر حکومت فرقہ پرست پارٹیوں کے ساتھ مل کربناتے ہیں اور وہاں جانے کے بعد مسلمانوں کو لات ماردیتے ہیں ۔ اس لات کااثر کچھ دن تک مسلمانوں کو رہتا ہے پھر بعد میں وہ بھول جاتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ میونسپل ، کارپوریشن ، پنچایت یا پھر اسمبلی ہو یا پارلیمنٹ الیکشن ۔ ہر ایک اپنے اپنے طورپر ووٹ دیتاہے اور اسکی مرضی سے دیا جاتاہے لیکن گدھوں کی شناخت کرنے میں مسلمان کیوں دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔ جب عید کے لئے کپڑے یہاں تک کہ جوتے بھی خریدتے ہیں تو کوالیٹی اور قیمت دیکھ کر ہی خریدے جاتے ہیں لیکن جب اپنی نسلوں کا مستقبل ، ملک کے مستقبل کی بات آتی ہے تو کیوں معمولی لالچ میں آکر ووٹوں کی بولی لگائی جاتی ہے ۔ حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں اور ہم گدھوں پر اعتبار کررہے ہیں ۔یہاں تک کہ کئی معاملات میں ان گدھے سیاستدانوںنے مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور اپنے ووٹ بینک کی خاطر مسلمانوں کو قریب لانے سے بھی گریز کیاہے باوجود اسکے مسلمان انکے پاس گھسے چلے جارہے ہیں ۔ آج 2 فیصد 4 فیصد والی قومیں مسلمانوں کا استحصال کررہی ہیں اور 20 فیصد والے مسلمان خود بے وقوف بنتے جارہے ہیں ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان پورے ہوش و حواس کے ساتھ اپنے مستقبل کے فیصلے لیں ، حالانکہ الیکشن ابھی دور ہے لیکن تیاریاں ابھی سے شروع ہوچکی ہیں ۔ جو کل تک گہرے پانی میں ڈوبے ہوئے تھے وہ مینڈ ک اب الیکشن کی بارش آتے دیکھ کر ٹر ٹرارہے ہیں ۔