گدھے کے گدھے ہی رہے جائینگے

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ایک گدھا تھا،جس پر اس کا مالک روزانہ80 کلو کاوزن رکھتا تھا،گدھا اس وزن کو ہر دن برداشت کرتاتھا ۔یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا،پھر کچھ دن بعد مالک نےسوچاکہ اس گدھے کوتو80 کلو وزن ڈھونے کی عادت ہوچکی ہے،کیوں نہ اس پر مزید40 کلو وزن رکھا جائے،اس نے فوراً ہی گدھے پر مزید40 کلو وزن بڑھادیا۔اس طرح سے گدھا روزانہ120 کلو وزن ڈھوتارہا،گدھے کو احساس ہواہے کہ اس پر زیادہ وزن لاداجارہاہے،باوجود اس کے کچھ بھی کہنے سے قاصرتھا۔کئی دنوں تک یہی سلسلہ چلتا رہا،پھر ایک دن مالک نے اور بیس کلو وزن بڑھادیاتب بھی گدھا140 کلو وزن اٹھاتے ہوئے اپنی مجبوری کو ظاہرہ نہ کرسکا۔کچھ دن بعد جب مالک نے اور وزن بڑھانے کی سوچی تو گدھا چلانے لگا،تب مالک نے15 کلو وزن گھٹادیا۔گدھا خوش کیاکہ اس پر سے پندرہ کلو وزن کم ہواہے۔اب وہ خوشی خوشی125 کلو وزن ڈھو رہاتھا۔یہی حال بھارت کے شہریوں کاہے70 روپئے والاپٹرول بڑھا کر90روپئے کردیاگیا،لوگ خاموشی سے اس مہنگائی کوسہتے رہے،کچھ دن بعد اس کی قیمت100روپئے ہوئی تب بھی لوگوں میں خاموشی چھائی رہی،کچھ وقفے بعد یہ قیمتیں بڑھ کر105 روپئے ہوئی،اس پر بھی لوگ خاموش سے اپنی مجبوری کو سہتے رہے،پھر جب پٹرول کی قیمت112 ہوئی تو زوردار بحث شروع ہوئی،اس زوردار بحث کو دیکھتے ہوئے سرکاری نے9 روپئے کی کٹوتی کردی،جیسے ہی 9 روپئے کی کمی آئی تو میڈیامیں کہاجانے لگاکہ مودی حکومت کا ایک بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لائی ہے،پھر لوگوں نےسکون کی سانس لی اور کہاکہ چلو پٹرول کی قیمتیں کم ہوئی اورمودی نے عوام کے مسائل کو حل کیا۔اس طرح سے لوگ گدھوں کی طرح بوجھ اٹھاتے رہے اور مالک نے بوجھ کم کرکے لوگوں پر احسان جتانے کا ناٹک کیا۔آخر بھارت کے لوگوں کو کیا ہوگیاہے کہ وہ ناانصافی اور استحصال پر خاموشی کامظاہرہ کررہے ہیں؟جبکہ مہنگائی کسی خاص طبقے کیلئے نہیں اور نہ ہی کسی خاص مذہب کیلئے ہے،باوجوداس کے بھارت کے لوگ اس حکومت کو سہے رہے ہیں۔دوسری جانب ان تمام مدعوں پر پردہ ڈالنے کیلئے حکومت کی طرف سے باقاعدہ مذہب کانشہ گھولاجارہاہے،جس کا اثر بھارت کے مختلف مذاہب پر ہورہاہے۔اگر بھارت کے لوگوں نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیاہوتاتو آج یہ گدھے نہ بنے ہوتے۔مہنگائی صرف پٹرولیم پر ہی نہیں بلکہ ہر چیز پر غالب ہوچکی ہے لیکن ناخواندہ لوگوں سے لیکر تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی اس طرح کا رحجان دیکھاجارہاہے کہ وہ لوگ خاموشی کے ساتھ ان مظالم کو جھیل رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عام لوگوں کو ان چیزوں پر آوازاٹھانے کی ضرورت ہے ورنہ بھارت کے لوگ گدھے کے گدھے ہی رہے جائینگے۔