از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اس وقت ریاست بھر میں اسکولوں وکالجوں میں داخلوں کاسلسلہ جاری ہے،ریاست بھر میں بیشتر والدین اپنے بچوں کوسرکاری اسکولوں میں داخلہ دلوانے کے بجائے پرائیوئٹ اسکولوں میں داخلہ دلوانے کی کوششوں میں ہیں۔حالانکہ سرکاری اسکولوں وکالجوں میں مفت تعلیم دی جاتی ہے،یا پھر نہایت معقول فیس پر بچوں کا داخلہ لیاجاتاہے۔مگر سرکاری اسکولوں وکالجوں میں جو تعلیمی نظام ہے وہ بیشتر علاقوں میں درہم برہم ہوچکاہے،کیونکہ بیشتر اساتذہ ان بچوں کو تعلیم دینا اپنا مقصدنہیں مانتے بلکہ محض دس سے پانچ کی ڈیویٹی کو انجام دینے کیلئے فکرمندرہتے ہیں اور جو معیاری تعلیم محنت کے ساتھ دینے کی ذمہ داری ان کی ہوتی ہے وہ ذمہ داری کو اساتذہ پوری طرح سے نہیں نبھا رہے ہیں۔اس وجہ سے والدین اپنے بچوں کے مستقبل کو لیکر نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ دلواناچاہتے ہیں۔لیکن یہ داخلے ایسےہی نہیں ہوتے بلکہ اس کیلئے بڑی فیسوں کواداکرنا پڑتاہے،جو ہر ایک کے بس میں نہیں ہے۔مالدار اور متوسط طبقہ بغیر چوں چاں کے اپنے بچو ں کا داخلہ دلوادیتاہے،لیکن سب سے بڑا مسئلہ اُن لوگوں کا ہے جو بی پی ایل یا اے پی ایل زمرے میںآتے ہیں،اسکولوں میں فیس کی کمی کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہوتی ایسے میں یہ لوگ بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کیلئے مارے مارے پھررہے ہیں۔اس وقت ہر جگہ نفسی نفسی کا عالم ہے،والدین کے سامنے بچوں کامستقبل ہے تو دوسری طرف ان کی جیبیں خالی ہیں،کئی والدین ایسی حالت میں ہیں کہ وہ پانچ دس ہزار روپئے کی فیس اداکرنے کے لئے بھی پریشان ہورہےہیں،ایسے میں مسلم طبقہ سب سے زیادہ متاثرہ زمرہ ہے۔اگرچہ کہ مسلمانوں کے پاس ایسے اداروں کی بھی کمی نہیں ہے جو ایسے بچوں کی تعلیم کیلئے مددکرسکیں،مگر ہر ادارہ محدود فکر کاقائل ہے۔مسلمانوں کے یہاں کئی ایسے بیت المال بھی ہیں جن کے پاس قابلِ ستائش وسائل ہیں،بینکوں میں ہزاروں لاکھوں روپیوں کا بیالنس ہے،کئی اوقافی مساجدکے پاس بھی وسائل ہیں،لیکن یہ ادارے اور مساجد بینک بیالنس کو نہایت ہی حفاظت کے ساتھ بچائے ہوئے ہیں اور کسی بھی حالت میں اسے کم کرناہی نہیں چاہ رہے ہیں۔ہم نے کئی بار یہ کہاہے کہ بیت المال کی ذمہ داری ختنہ کرانے،شادی بیاہ میں قرآن کی پیٹی اور دلہن کا سنگھاردینے کی نہیں ہے بلکہ سماج کو زوال سے عروج کی جانب لے جانےکی ہے۔ویسے بھی آ ج کل پانچ سو ہزار روپئے کی ختنہ کروانے کی استطاعت ہر ماں باپ کے پاس ہے،کیونکہ پانچ سو ہزار روپئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ہم نے ایسے بھی لوگوں کو دیکھاہے جوزچکیوں کیلئے 30-25 ہزار روپئے خرچ کردیتے ہیں اور ختنہ کروانے کیلئے بیت المال کی لائن میں لگ جاتے ہیں اور کئی شادیاں ایسی بھی دیکھی ہیں جو بیت المال اور اداروں سے مالی امداد لیکر شادیاں کرواتے ہیں،لیکن دلہن کی رخصتی ڈولیوں میں کرنے کیلئے تیاری کرتے ہیں،اس کے علاوہ اور بھی اصراف خرچ کردیتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کو چاہیے کہ شادی ،ختنے ،چلے،چھٹّی،رسم ورواج پر لاکھوں روپئے خرچ کرنے کے بجائے نئی نسل کی تعلیم پر خرچ کرنے کیلئے اپنی املاک کااستعمال کریں۔اسی طرح سے سماج میں کئی مالدارہیں،تاجرہیں،اعلیٰ سرکاری افسران ہیں،یہ تمام اگر اپنی اپنی طرف سے ایک دو بچوں کی فیس کی ذمہ داری لیتے ہیں تو سماج کا بڑاحصہ تعلیم یافتہ بن سکتاہے اور یہ مسلمانوں کی ناخواندگی کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتاہے۔ایک ختنہ کرانے سے ایک سُنت اداہوگی،لیکن ایک بچے کو تعلیم یافتہ بنانے سے ایک فرض اداہوگا اور اس فرض سے کئی نسلیں استفادہ کرسکتی ہیں۔
