کانگریس پارٹی میں مسلمانوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے: محمد ثناء اللہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
بھدراوتی:۔شیموگہ:میں کانگریس پارٹی میں 1980 سے مسلسل خدمت کرتا آرہاں ہوں۔میںنےپوری زندگی کانگریس کی بے غرض خدمت کی ہے ، لیکن پھر بھی ہمیں ہمارے حق سے پارٹی نے محروم رکھا ہے۔انہوںنے کہا کہ میں نے اسمبلی ٹکٹ کیلئے کئی مرتبہ اصرار کیا ہوں لیکن مجھے کبھی بھی کانگریس نےاسمبلی کی ٹکٹ نہیں دی ہے۔کانگریس میں محض مسلمانوں سے کام کروایا جارہا ہے اور عہدہ دینے کی باری آتی ہے تو انہیں تسلی دی جاتی ہے اور مزید کام کرنے کا مشورہ دیا جاتاہے۔ اسطرح کانگریس پارٹی میں مسلمانوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ان باتوں کا اظہارسابق ڈپٹی میئرمحمد ثناء اللہ نے کیا ہے۔انہوں نے روزنامہ کو دئیے گئے خصوصی انٹرویومیں بات کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کے ساتھ کانگریس پارٹی میں ہورہی ناانصافی اوروعدہ خلافی کے درد کو بیان کرتے ہوئےبتایا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کانگریس پارٹی میں واقعی مسلمانوں کا وجود ایک سرے سے ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔اس وقت کانگریس پارٹی میں سیکولر لیڈروں کی کمی محسوس ہورہی ہے۔کانگریس مسلمانوںکو صرف ووٹ بینک بنانا پسند کررہی ہے اسکے علاوہ انہیں باقاعدہ لیڈربنانے سے گریز کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس میں موجودکانگریس لیڈران کانگریس کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شمولیت کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ حال ہی میں کے پی سی سی آرگنائزیشن کمیٹی کی تشکیل دی گئی تھی اوراس میں بھی شیموگہ کے مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر نا انصافی ہوئی ہے۔ شیموگہ ڈسٹرکٹ سے ایک بھی سینئرمسلمان کوکے پی سی سی نے منتخب نہیں کیا ہے۔ جتنے بھی کے پی سی سی کے عہدے ہیںوہ پورے غیر مسلم کو دئے گئے ہیں ۔ کانگریس پارٹی میں مسلمانوں کے ساتھ حق تلافی ہورہی ہے۔مسلمان اب سمجھ چکے ہیں کہ کانگریس میں انکا کوئی مستقبل نہیں ہے اور اس پارٹی کو ترک کرنا ہی مسلمانوں کیلئے بہتر فیصلہ گا۔