دہلی :۔بی جے پی کی سابق ترجمان اور نوین جندل کے پیغمبر اسلامؐ کے خلاف تبصروں پرعرب ممالک نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب نائب صدر وینکیا نائیڈو نے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ قطر کا چار روزہ دورہ شروع کیا ہے۔پیغمبر اسلام کے خلاف کیے گئے تبصروں سے ناراض، قطر کی وزارت خارجہ نے ہندوستانی سفیر دیپک متل کو طلب کیا اور انہیں جندل کے تبصرے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایک سرکاری نوٹ سونپا۔وزارت نے کہا کہ "ہم ہندوستان میں حکمراں جماعت کے ایک عہدیدار کی طرف سے پیغمبر اسلامؐ کے خلاف کیے گئے متنازعہ تبصروں کی مذمت کرتے ہیں،” وزارت نے مزید کہا کہ قطر نے بی جے پی کے جاری کردہ بیان کا خیرمقدم کیا، جس میں اس نے عہدیدار کو پارٹی سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ادھر کویت کی وزارت خارجہ نے ہندوستانی سفیر سبی جارج کو طلب کیا اور اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ برائے ایشیا امور کی طرف سے ایک سرکاری احتجاجی نوٹ حوالے کیا، جس میں کویت نے پیغمبر اسلامؐ کے خلاف بی جے پی رہنماؤں کے تبصروں کی مذمت کی اور ان کو مسترد کیا۔اس کے چند گھنٹے بعد ایران نے بھی ہندوستانی سفیر کو طلب کرکے پیغمبر اسلامؐ کے خلاف کئے گئے تبصروں کی مذمت کی۔ ادھر عمان نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ سعودی عرب اور بحرین نے ان تبصروں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔واضح رہے بی جے پی نے پارٹی ترجمان نوپور شرما کو معطل کر دیا ہے جبکہ اس کے دہلی میڈیا کے سربراہ نوین کمار جندل کو ان کے اشتعال انگیز ریمارکس کے لیے پارٹی سے نکال دیا ہے۔ بی جے پی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے کہا کہ بی جے پی ایسے لوگوں یا ایسے نظریہ کو فروغ نہیں دیتی۔واضح رہے ان خلیجی ممالک میں بی جے پی کے رہنماؤں کے ان تبصروں کے خلاف ٹوئٹر پر ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا ہیش ٹیگ ٹریند کر رہا ہے جس کے بعد وہاں کی حکومتوں نے اس معاملہ کا سختی سے نوٹس لیا۔افغانستان کی طالبان حکومت نے ہندوستان کی حکمران جماعت کی ترجمان کی طرف سے نبی کریمؐکی کی شان میں گستاخی کی شدید ترین مذمت کی ہے۔طالبان حکومت کے ترجمان اورنائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا کہ افغان حکومت ہندوستان کی حکمران جماعت کی ترجمان اور اور لیڈر کی طرف سے نبی کریمؐکی کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کی کرتی ہے، اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی اپیل کرتی ہے ۔ طالبان کے اعلیٰ ترجمان ذبیح ا للہ مجاہد نے کہا کہ کسی بھی شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت کو اپنی ذمہ داری کرتے ہوئے محض پارٹی سے معطل کئے جانے پر اکتفانہیں کرنا چاہیے، بلکہ گستاخی کے ارتکاب پر سلاخوں کے پیچھے بھی بھیجا جانا چاہیے ۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان حکومت ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کر تی ہے کہ ایسے لوگ جو مذہبی منافرت کا سبب بن رہے ہیں ، انہیں اسلام کی توہین اورمسلمانوں کے جذبات کومشتعل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حماس نے بھی ہندوستانی حکمران جماعت بی جے پی کے دو ر ہنما ؤں(نوپور شرما اور نوین جندال) کی طرف سے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شاتم رسول ہندو لیڈروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حماس کے رہنما فتحی حماد نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی لیڈروں کے توہین آمیز ریمارکس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔متنازع اور توہین آمیز بیان دینے والوں کو عالمی سطح پر مواخذہ سے گذارا جانا چاہیے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ حماس رہنما نے بھارت کی حکمران بی جے پی کی قومی ترجمان اب معطل کی جانب سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پرمبنی بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
