ایک نکاح ایسا بھی، دلہن نے مانگا مہر میں تفہیم القرآن; بارات میں صرف 15 افراد کی شرکت ،قابل ستائش اقدام

سلائیڈر نیشنل نیوز
اورنگ آباد: آج جبکہ نکاح کے نام پر ہزاروں خرافاتیںِ امتِ مسلمہ کے اندر آچکی ہیں ایسے میں اسلامی روایتوں کا آئینہ دار آسان نکاح ہمارےملک عزیز بھارت میں عمل میں آیا۔ یہ نکاح بتاریخ 2 جون 2022 بروز جمعرات کو تلنگانہ کے ضلع نظام آباد کے تعلقہ بودھن کی قدیم اورمشہور جامع مسجد میں عین اسلامی اصولوں کے تحت کیا گیا۔اس نکاح میں لڑکے والوں کی جانب سے صرف 15 افراد نے شرکت کی اوربغیر کسی ڈیمانڈ اورجہیز کے نکاح کی ایک بہترین مثال پیش کی۔ آج بھارت میں جبکہ کئی نکاح ایسے ہیں جو صرف جہیز جیسی لعنت کی وجہ سے رکے ہوئےہیں ایسے میں یہ نکاح ایک بہترین مثال ثابت ہورہا ہے۔ نکاح کی ایک اورخاص بات یہ ہے کہ دلہن کی جانب سے مہر میں تفہیم القرآن مانگا گیا۔ ایسے دور میں جبکہ قرآن سے دوری ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ دلہن کا یہ طرز عمل نوجوان بہنو وبیٹیوں کو قرآن سے بے تحاشہ محبت کا درس دیتا ہے۔ شہر جلگائوں مہاراشٹر میں تنظیم ایس آئی او کے فعال رکن اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین جلگائوں ضلع صدر احمد سرکے فرزند شیبان فائز کا نکاح شہر بودھن تلنگانہ سےجی آئی او کی فعال رکن اریبہ انجم سے عمل میں آیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فتنوں سے بھرے اس دور میں خود کو اسلامی تعلیمات سے قریب ترین کرنا آج ایک اہم فریضہ بن چکا ہے۔ تمام مسلم نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنے نکاح کو بے حیائی، فحاشی، عریانیت ، ناچ گانے اور بیجا رسم ورواجوں کا گہوارہ بنانے کی بجائے اسے بہت بہت آسان کردیجئے، کیونکہ جس معاشرے میں نکاح مشکل ہوجاتے ہیں وہاں زناکاری عام ہوجاتی ہے۔ شیبان فائز اور اریبہ انجم کا آسان نکاح اس دور میں ایک مثال ہے جس پر سبھی کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ جب مائیں اسلام سے قریب ترین ہوجاتی ہے تو دین نسلوں میں سفر کرتا ہے۔ ضرورت ایک ایسا اسلامی معاشرہ بنانے کی ہے جو فضول وبے جا رسم ورواجوں سے پاک ہو۔ جہاں کوئی بہن ، بیٹی صرف اسی لئے نکاح سے محروم نہ رہے کہ جہیز دینا ہے۔ جہاں لڑکے والے رشتوں میں بینک بیلنس، اسٹیٹس، ڈیمانڈز کرنے کی بجائے نکاح کو سادہ اورآسان سے آسان ترین بنانے پر زور دے اوران اصولوں پر لڑکی کو پسند کیا جائے جو اصول ہمیں اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے دئے ہیں کہ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ شادی عموماً چار چیزوں کی وجہ سے کی جاتی ہے(1) حسب نسب کی وجہ سے، (2) مال کی وجہ سے(3) حسن وجمال کی وجہ سے(4) دینداری کی وجہ سے۔ لیکن تم لوگ دین داری کو ترجیح دیا کرو۔ اگر ایسانہ کروگے تو دنیا میں فساد ہوگا۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ ہمیں نہ صرف نکاح بلکہ زندگی کے ہر شعبہ پر عین اسلامی احکامات کےمطابق عمل کرنے والابنائے۔