موبائل ایپس پرلون کا جال ؛ قرضداروں کو جینا ہوجاتا ہے محال

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
شیموگہ:۔بھارت میں موبائل فون ایپس کے ذریعے دھوکہ دہی کے یہ واقعات بہت عام ہو گئے ہیں۔ یکم جنوری 2020 اور 31 مارچ سنہ 2021 کے درمیان انڈیا کے مرکزی بینک آر بی آئی کے ایک مطالعے نے 600 غیر قانونی قرض دینے والی ایپس کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس مدت کے دوران ریاست مہاراشٹر کو قرض دینے والی ایپس سے متعلق سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 572 مرکزی بینک کو رپورٹ کی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہےکہ یہ ایپس بغیر کسی پریشانی کے قرضے دینے، فوری رقم کی ادائیگی کا وعدہ کرتی ہیں اور لوگ ان کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ انھیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کے فون ہیک ہو گئے ہیں، ان کا ڈیٹا چوری ہو جاتا ہے اور ان کی رازداری ختم ہو جاتی ہے۔‘دراصل یہ ایک گھپلا ہے جو پھیل رہا ہے کیونکہ انڈیا میں بہت سے لوگ قرضوں کے اہل نہیں۔‘بھارت میں بہت سے لوگ بینکوں سے قرض لینے کے اہل نہیں کیونکہ وہ ان کی تمام شرائط پوری نہیں کرتےجسکی وجہ سے وہ ایپ پر قرضہ لینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ موبائل ایپ  پرقرضہ دینے والے اکثر ایپس کو چین میں سرورز کے ذریعے چلایا جاتا ہے لیکن دھوکہ دہی کرنے والے خود عام طور پربھارت میں موجود ہوتے ہیں۔  بہت سے گھپلے کرنے والوں کو ان کے بینک اکاؤنٹس اور فون نمبرز کا پتا لگا کر پکڑا گیا ہے لیکن ایپس کے بانی یا ایجنٹس  جو ان کے لیے کام کرتے ہیںان کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ موبائل نمبر حاصل کرنے کے لیے تمام جعلی کاغذات کا استعمال کرتے ہیں۔‘اس سلسلے میں جن ایجنٹوں کو پکڑا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم پورے بھارتمیں کام کرتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر کے پاس کام کرنے کے لیے کوئی مقررہ جگہ نہیں۔  صرف لیپ ٹاپ اور ایک فون کنیکشن کی ضرورت ہے۔ہر  ایک آپریٹر کے پاس گاہک کو دھمکیاں دینے کے لیے 10 سے زیادہ نمبر ہوتے ہیں۔‘ایجنٹوں کا کہنا ہے کہ انھیں ’سادہ اور ضرورت مند‘ افراد کو تلاش کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جنھیں پھر ان کی ضرورت کا نصف بطور قرض دیا جاتا ہے۔ پھر جعل ساز مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی رقم کو تین گنا واپس کیا جائے۔اگر متاثرہ شخص رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو فوری طور پر مزید دباؤ ڈالا جاتا ہے۔سکیمرز کا کہنا ہے کہ ان کا انڈیا میں چھپے رہنا آسان ہے کیونکہ وہ جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہیں۔اسکیمرز کاکہنا ہے پہلا مرحلہ ہراساں کرنا ہوتا ہے۔ پھر دھمکیاں دینا۔ پھر اصل کھیل اس شخص کو بلیک میل کرنے کا شروع ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ شرم اور خوف کے مارے حکام کے پاس نہیں جاتے۔‘عام طورپر متاثر ہ افراد کو دھمکایا جاتاہے کہ انکے تعلق سے خاندان اور دفتر کے ساتھیوں کو  قرضوں کے بارے میں بتایا جائیگا، لیکن کچھ دھمکیاں زیادہ سفاک ہیں، جن میں متاثرہ شخص کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے فحش ویڈیوز بنانے اور تقسیم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔حالانکہ حکومت نے قرض کا فریبی نیٹ ورک چلانے والوں کو ختم کرنے کے لیے کچھ کوششیں کی ہیں۔ پچھلے سال مئی میں حکومت نے گوگل پر زور دیا کہ وہ اپنے پلے ایپ اسٹور میں دستیاب ایپس کا جائزہ لے۔ڈیجیٹل قرض دینے کے اپنے مطالعے کے بعد آر بی آئی نے حکومت سے کہا کہ وہ غیر قانونی قرضوں کو روکنے میں مدد کے لیے نئی قانون سازی کرے۔ اس ضمن میں آر بی آئی کی ایک مرکزی ایجنسی شامل ہے جو ایسی ایپس کی تصدیق کر سکتی ہے۔جو لوگ آن لائن یا ایپس کے ذریعے قرضہ لیتے ہیں انکا کہنا ہے کہ انکی زندگی جیتے جی جہنم بن گئی تھی، وہ نہ سو سکتے ہیں نہ کچھ کھاسکتے ہیں۔سائبر پولیس کا کہنا ہے کہ لوگ آسان قرضوںکی تلاش میں ایپس پر قرضے نہ لیں ، اگر قرضہ لے بھی لیتے ہیں تو اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے جس سے شاید ہی کوئی بچا سکتاہے۔